Showing posts with label تبصرہ. Show all posts
Showing posts with label تبصرہ. Show all posts

Wednesday, June 14, 2023

پیکرِ فکروعمل مولانا ابوالکلام آزاد

 پیکرِ فکروعمل مولانا ابوالکلام آزاد 

 مصنف : ڈاکٹر محمد اختر

ضخامت : ۲۶۵ صفحات

 قیمت : ۳۰۰ ؍ روپے 

مطبع : البلاغ پبلی کیشنز، نئی دہلی 

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ مولانا آزاد اس صدی کی ان عظیم شخصیتوں میں سے ایک تھے جن کے نام سے یہ صدی پہچانی جائے گی۔ اس دور کی کوئی ادبی، علمی اور سیاسی تاریخ ایسی نہیں لکھی جاسکتی جس کے اوراق مولانا آزاد کے گوناگوں کارناموں کے ذکر سے خالی رکھے جاسکیں۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد بیک وقت ایک بلند پایہ ادیب و انشا پرداز، جلیل القدر صحافی، منفرد سیاست داں، ممتاز مفسر قرآن، عدیم المثال محدث، مایۂ ناز مفکر، ایک عظیم تعلیمی رہنما اور شہرۂ آفاق مجاہدِ آزادی کی حیثیت سے مقبول و معروف رہے ہیں۔ دراصل مولانا آزاد اپنی فطری ذہانت، اپنے فکروتصور اور اپنے بالغ رجحانات و میلانات اور ذہنی اکتسابات کے متنوع اور خیال آفریں ادبی، علمی، مذہبی اور صحافتی خصوصیات کے باوصف ایک غیر معمولی انسان تھے۔ ان کو مطالعہ کی وسعت، پاکیزہ جمالیاتی ذوق و شوق اور اپنی تحریروں میں عالمانہ رکھ رکھائو نے اتنا برگزیدہ بنا دیا تھا کہ لوگ انھیں ایک پختہ عمر کے قلم کار تصور کرنے لگے تھے۔ مولانا آزاد کی عظمت کے کئی نشانِ امتیاز ہیں۔ ان کے بلند پایہ ادبی کارناموں میں اگر صرف ’’غبار خاطر‘‘ ہی ہوتی تو بھی ان کی ادبی نیرنگیاں اسی طرح مشہور ہوتیں جس طرح وہ آج اپنی بلند آہنگی اور علمی شان کی بدولت شہرت رکھتے ہیں۔ دراصل اس کا نقطۂ آغاز ’’تذکرہ‘‘ کے بعض حصوں میں نظر آتا ہے۔ تذکرہ میں جہاں ابوالکلام آزاد کی تحریروں نے خودنوشت سوانح کا رنگ اختیار کرنے کی کوشش کی ہے تو اس میں ایک ایسی تخلیقی شان پیدا ہوگئی ہے جس میں شعری اور تخلیقی اظہار کے مختلف عناصر سے قاری کا سامنا ہوتا ہے۔ ان کے یہاں رعایتِ لفظی، حسن تراکیب اور منفرد انداز میں تشبیہی استعاروں کی ایک کہکشاں آباد ہے۔

زیر نظر کتاب ’’پیکر فکر و عمل مولانا ابوالکلام آزاد‘‘ مولانا آزاد کی شخصیت کے چند اہم پہلوئوں کو سمجھنے اور سمجھانے کی ایک اہم کوشش ہے۔ یہ کتاب تین حصوں میں منقسم ہے۔ پہلے حصے میں ’’غبار خاطر‘‘ کے حوالے سے ان کی مکتوب نگاری کا تفصیلی اور تنقیدی جائزہ لیا گیا ہے، نیز مولانا کے صحافتی کارناموں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ چونکہ غبار خاطر ابوالکلام آزاد کے خطوط کا مجموعہ ہےاور یہ تمام خطوط نواب صدر یار جنگ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی رئیس بھیکم پور ضلع علی گڑھ کے نام لکھے گئے تھے۔ یہ خطوط قلعہ احمد نگر میں ۱۹۴۲ءتا۱۹۴۵ءکے درمیان زمانہ اسیری میں لکھے گئے۔ مولانا کی زندگی کا ایک بڑا حصہ قیدوبندمیں گزرا مگر اس بار قلعہ احمد نگر کی اسیری ہر دفعہ سے زیادہ سخت تھی کیونکہ اس بار نہ کسی سے ملاقات کی اجازت تھی اور نہ کسی سے خط وکتابت کرنے کی۔ اس لیے مولانا نے دل کا غبار نکالنے کا ایک راستہ ڈھونڈ نکالا اور خطوط لکھ کر اپنے پاس محفوظ کرنا شروع کردیے۔ مولانا نے خود اسی مناسبت سے ان خطوط کو غبار خاطر کا نام دیا ہے اور ’’خط غبار من است این غبار خاطر‘‘ سے اسے تعبیر کیا ہے۔ ایک خط میں شروانی صاحب کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں: ’’جانتا ہوں کہ میری صدائیں آپ تک نہیں پہنچ سکیں گی۔ تاہم طبعِ نالہ سنج کو کیا کروں کہ فریاد و شیون کے بغیر رہ نہیں سکتی۔ آپ سن رہے ہوں یا نہ رہے ہوں میرے ذوق مخاطبت کے لیے یہ خیال بس کرتا ہے کہ روئے سخن آپ کی طرف ہے‘‘۔ مولانا آزاد نے یہ خطوط شائع کرنے کے خیال سے نہیں لکھے تھے لیکن ان کی رہائی کے بعد جب مولوی اجمل خاں کو ان خطوط کا علم ہوا تو مُصر ہوئے کہ انہیں ایک مجموعہ کی شکل میں شائع کردیا جائے اور یوں غبارِ خاطر کو پہلی مرتبہ محمد اجمل خاں نے مرتب کرکے ایک مقدمہ کے ساتھ مئی ۱۹۴۶ءمیں شائع کیا۔

 دوسرے حصے میں مولانا آزاد کے تعلیمی اور سیاسی نظریات سے بحث کی گئی ہے۔ مولانا کہتے تھے کہ تعلیم کا واحد مقصد روزی روٹی کمانا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ تعلیم سے شخصیت سازی کا کام بھی لیا جائے۔ یہی تعلیم کا سب سے مفید پہلو ہے اور اسی سے معاشی و تمدنی نظام بھی بہتر ہوسکے گا۔ آزاد کا نظریہ یہی تھا کہ تعلیم وہی ہونی چاہیے جو ترقی کی ضامن ہو اور جس سے ایک بہتر سماج تشکیل پاسکے ،جس میں انصاف، رواداری اور فراخ دلی ہو۔

 تیسرا حصہ ’خلاصۂ بحث‘ یعنی اس کتاب کی تلخیص ہے۔ پیش نظر کتاب میں محمد اختر نے مولانا آزاد کی ادبی و صحافتی رویے ، شخصیت، نظریۂ تعلیم اور ادبی خدمات پر متوازن اسلوب میں روشنی ڈالی ہے۔ مولانا آزاد سے عقیدت کا اظہار کرنے کے بجائے تجزیاتی محاکمہ کے ذریعہ مصنف نے ان کی قدروقیمت متعین کرنے کی کوشش کی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ افکار و تصورات کے ساتھ ہی، قومی اور ملکی سیاست میں مولانا آزاد کی عملی سرگرمیوں کا بھی مصنف نے جائزہ لیا ہے اور معاصر سیاسی پس منظر میں مولانا آزاد کے موقف پر تفصیل سے گفتگو کی ہے۔

حارث حمزہ لون 

ساکن: رحمت آباد رفیع آباد بارہمولہ کشمیر

زعفران زار۔ ودربھ کی منتخب نگارشات

  زعفران زار۔ ودربھ کی منتخب نگارشات 


ایون اردو، دہلی جون 2023
2 جلد نمبر 37 شمارہ نمبر 

مرتب : محمد اسداللہ 

ضخامت : ۳۶۸صفحات

قیمت : ۳۳۰ روپے

ملنے کا پتہ : الفاظ پبلی کیشنز ، پھٹانا اولی ،کامٹی ۔ ۴۴۱۰۰۱، ضلع ناگپور موبائل : 07721877941

ادب کا مطالعہ ہمارے ثقافتی، تہذیبی اور تفریحی تقاضوں کی تکمیل کے ساتھ ہمیں ایسے بالیدہ شعور و احساس سے بھی آ راستہ کرتاہے جو ایک بہتر زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے ۔ طنز و مزاح کے متعلق پہلا تاثر یہ ہے کہ وہ ہماری تفریحِ طبع کا ذریعہ ہے اور اس کا مطالعہ ہماری طبیعت کو شگفتگی عطا کر کے ہمارے فکر و غم کو دور بھگاتا ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ادب میں ظرافت سماج کی تنقید کا ایک زبردست آ لہ ہے ، طنزیہ و مزاحیہ ادب سماج کی ناہمواریوں کا شعور پید اکر تا ہے۔ وقت گزرنے پر مذموم رسوم و رواجوں کے ساتھ جب طبیعتیں مانوس ہوجاتی ہیں تو عوامی سطح پر برائی کا احساس جاتا رہتا ہے ۔ظرافت ناموزوں اور بے ہنگم طریقِ کار کے غلط ہونے کا شعورپیدا کرکے اس کو ختم کر نے میں مدد کرتی ہے ۔ 

زیر ِ تبصرہ کتاب’ زعفران زا ر‘علاقۂ ودربھ کے ظرافت نگاروں کی شعری و نثری تخلیقات کا ایک انتخاب ہے ۔اس کتاب کے ذریعے پہلی مرتبہ یہ احساس دلانے کی کو شش کی گئی ہے کہ اردو ادب میں ظرافت کی آ بیاری کرنے والوں کا ایک قافلہ اس دیار میں بھی موجود ہے ورنہ اب تک دہلی ،ممبئی ،لاہور اور حیدر آ باد طنز و مزاح کے مشہور مراکز رہے ہیں ۔ ’زعفران زار‘ کے مرتب محمد اسد اللہ اردو کے ایک معروف انشائیہ نگار اور طنز و مزاح نگار ہیں ۔ وہ خود بھی اس کارواں میں شامل ہیں ۔ انشائیہ نگاری میں تخلیقی و تحقیقی سطح پران کا کام متعددکتابوں کی شکل میں منظرِ عام پر آچکا ہے ۔ اس کے علاوہ محمد اسد اللہ نے مراٹھی ادب کی نمائندہ مزاحیہ تخلیقات کو بھی تراجم کے ذریعے اردو میں منتقل کیا،اس سلسلے میں ان کی دو کتابیں زیورِ طبع سے آ راستہ ہوچکی ہیں ۔

باب دوم میں وہ ادیب ہیں جنھوں نے منہ کا مزہ بدلنے کے لیے کبھی کبھار اس صنف میں طبع آ زمائی کی ہے اور تا ہنوز ان کی کوئی کتاب طنز و مزاح کی شائع نہیں ہوئی ،انھیں ’یارانِ بے پیالہ ‘کے نام سے یاد کیا گیا ہے ۔ ان میں چند اہم نام یہ ہیں ۔ ڈاکٹرسمیع بن سعد، محمد خورشید نادر،شکیل شاہجہاں ،ڈاکٹر اشفاق احمد ،ڈاکٹر اظہر حیات ،رنق جمال ،شاہد رشید، عمر حنیف ،یحییٰ جمیل ،ریحان کوثر ،ڈاکٹر توحید الحق ،ڈاکٹر کلیم ضیا،خان حسنین عاقب ،محمد رفیع مجاہد، محمد ایوب ، سید اسد تابش شمیم افسر اور الیاس احمد ہیں ۔ اس کے بعد باب سوم میں  ’فردوس گوش ‘ کے تحت ودربھ کے ۱۹ شعرا کا مزاحیہ کلام ہے ۔ اس کتاب کے پیش لفظ میں مشہور مزاح نگار شکیل اعجاز نے لکھا ہے کہ کسی کا دل خوش کرنا ،اس کو ہنسنے مسکرانے کے مواقع فراہم کرنا ،بھی ایک نیکی مانی جاتی ہے ۔یہ کتاب اس قسم کی نیکیوں سے بھری پڑی ہے ۔ 

محمد اسد اللہ نے اس کتاب کے مقدمے میں ودربھ کا محلِ وقوع اور تاریخی حقائق کے علاوہ وہاں طنز و مزاح کے ارتقا پر روشنی ڈالنے کے علاوہ اس کتاب میں شامل قلمکاروں کے فن اور طنز و مزاح سے متعلق ضروری معلومات پیش کی ہیں ۔

ا ن مزاح نگاروں میں سے اکثر ایسے ہیں جنھوں نے اردو ادب میں اپنی پہچان بنائی ، طنز و مزاح کو اپنی طبیعت کی شگفتگی سے فیضیاب کیا اور عصری زندگی کی مضحکہ خیز تصویروں کو ادب کے ایوان میں مطالعے کے قابل بنایا۔ 

درج ذیل شاعروں کی دو دومنظومات یا غزلیں شامل کتاب کی گئی ہیں ۔

حافظ محمد ولایت اللہ ،عبدالصمد جاوید( علامہ گنبد ) ،فیاض افسوس ، ڈاکٹر شرف الدین ساحل ،ناظم انصاری ،جملوا انصاری ،سرفراز کاتب ،فنی ایوت محلی ، لقب عمران ،فوجی جلگانوی، غنی اعجاز ،رفیق شاکر ،انور احمد قریشی ،منھ پھٹ ناگپوری ،مسعود جھانپڑ ، مفلس قارونی، سرخاب، سوامی کرشنانند سوختہ ،زین العابدین نایاب ، حیدر بیابانی ،متین اچلپوری ، فصیح اللہ نقیب،جھنجھٹ اکولوی ، ریاض الدین کامل ،محمد توحید الحق،نادر بالاپوری ،انیس احمد شوق ،وحید شیخ ،التمش شمس،عقیل ساحر ،بشیر بشر ،عمران علی خا ن ،جمیل انصاری ،شاداب انجم وغیرہ ۔

 درخشاں پروین 

بلاک نمبر-1، بیگم عظیم النسا ہال، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ-202002


تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ

  تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ


ایون اردو، دہلی جون 2023
2 جلد نمبر 37 شمارہ نمبر


افسانہ نگار : نورین علی حق

ضخامت : ۱۶۵صفحات

قیمت : ۳۵۰

ناشر : عذرا بک ٹریڈرس، دریا گنج ،نئی دہلی۔۲

گزشتہ برسوں میں انسان پر جس طرح سے سخت عذاب و علائم نازل ہوئے ہیں اُس نے انسان کی اندرونی ذات پر ضرب لگائی ہے، جس سے انسان اس قدر انتشار کا شکار ہوگیا ہے کہ اس کو کسی طور وہ سکون میسر نہیں ہوتا، جس میں وہ ٹھہر کر سکھ کی سانس لے سکے۔ انسان اپنے وجود سے اُکتا رہا ہے۔اس کی روح میں جھنجھلاہٹ پیدا ہو رہی ہے، وہ جسم کے کھوکھلے پیکر سے چھٹکارا پاکر آزاد ہو جانا چاہتی ہے۔ اسی کرب کو فلسفے کے زمرے میں وجودیت کا نام دیا گیا ہے۔جب ہم اردو افسانوں میں اس جھنجھلاہٹ کی بات کرتے ہیں تو یہ نورین علی حق کے افسانوی مجموعے ''تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ'' کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ 

نورین علی حق کو میں پچھلے کئی برسوں سے جانتا ہوں۔ اس شخص کے اندر میں نے وہ روشنی جیتے جاگتے دیکھی ہے، جو ایک مجنوں کے سر پر ایسے سوار ہوتی ہے، جو کسی بھی صورت میں اپنے محبوب کو پالیناچاہتا ہے۔ میں نے ان کا پورا افسانوی سفر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

افسانوں پر بات کرنے سے پہلے افسانوی مجموعے'' تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ'' کا عنوان ہی اس قدر پُر پیچ ہے کہ قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ جیسا کہ سب کو علم ہے۔ اگر ہم کہیں ''محبوب کے ہونٹ گلاب کی پنکھڑی کی طرح ہیں۔‘‘ تو یہ تشبیہ کی مثال کہلائے گی۔ ٹھیک اسی طرح تقلیب کے لفظی معنی اُلٹ دینے کے ہیں۔ اگر ہم اسی مثال کو یوں کرلیں’’ گلاب کی پنکھڑی محبوب کے ہونٹوں کی طرح ہے‘‘ تو یہ تشبیہ مقلوب کہلائے گی۔

نورین علی حق کے افسانوں میں انسان کے دنیا کی طرح ہونے کو تشبیہ کہا گیا ہے اور پھر اس کی تقلیب ایسے کی گئی ہے کہ دنیا انسان کی طرح ہے۔ دنیا کا وجود انسان کے لئے ہے۔ دنیا کے حالات جو بھی ہیں وہ سب انسانوں کے سبب ہی ہیں۔

مجموعے کے عنوان کے بعد اس کتاب کا انتساب بھی بیحددلچسپ ہے جسے انہوں نے ڈچ پینٹر آرٹسٹ' ون سینٹ وین گوف' کی پینٹنگ "wheatfield with crows" پر دکھائے گئے ان کوّوں کے نام کیا ہے جو نحوست کا استعارہ ہیں۔ 

اس مجموعے میں کل تیرہ افسانے ہیں۔ جن میں سے پہلا افسانہ’’قسطوں میں مرنے والے کا نوحہ ‘‘ اپنی نوعیت کا منفرد افسانہ ہے۔اس میں ایک بوڑھا شخص کینسر کے مرض میں مبتلا موت کی آغوش میں جانے کے لئے بیتاب ہے۔ اس کو اپنے آس پاس ہر وہ شے جو اسے موت کے اور قریب لے جاسکتی ہے بہت پرکشش اور پر اسرار معلوم ہوتی ہے۔ موجودہ دور میں سوشل میڈیا کا اپنا ایک کریز ہے۔ جس میں لوگ شاٹ ویڈیو کو دیکھ کر دل بہلاتے ہیں۔ نورین علی حق نے انہی شاٹس کو اپنے افسانے میں استعمال کرتے ہوئے، اس بوڑھے شخص کی روداد اور حالات بیان کرنے کے لئے کہیں شعور کی رو کے ذریعے ماضی کا سفر کروایا ہے، جس میں پل پل کی اذیت کو قسطوں میں مرنے سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کہیں سماجی حقیقت نگاری کے بیانیے سے پوسٹ ٹرتھ کی تکنیک در آئی ہے۔ کہیں جادوئی حقیقت نگاری کے ذریعے وین گوف نمودار ہوجاتا ہے۔ 

نورین علی حق کے افسانے آسان اور عام فہم نہیں ہیں بلکہ پیچ در پیچ گتھے ہوئے افسانے ہیں۔ گویا ایک رقبے میں خزانے کے صندوق کی کچھ چابیاں چھپی ہیں۔ اگر ایک چابی ہاتھ لگ جائے تو باقی خود نمودار ہوجائیں۔نورین علی حق کے افسانے سپاٹ بیانیے کے تحت تخلیق نہیں کیے گئے بلکہ ان کا اسلوب تشبیہ اور استعاروں کے استعمال سے اس قدر پُر تاثیر اور پیچ دار ہوتا ہے کہ ان میں ایسے اقتباس در آتے ہیں، جو فکری طور پر بھی بامعنی معلوم ہوتے ہیں۔

’’فضا میں روحانیت کے ساتھ تپش کا احساس بھی ہو رہا ہے۔ بہت غور کرنے پر بس’ لا‘ کی صدا سمجھ میں آ رہی ہے۔’لا‘ کی صوتی تفہیم کے بعد منظر نامہ بدلتا جارہا ہے۔ لیکن 'لاکے مسلسل اقرار سے شاید دنیا کے انکار کا امکان روشن ہو رہا ہے۔‘‘(افسانہ: تشبیہ میں تقلیب کا بیانیہ)

اس مجموعے میں شامل آخری افسانہ’’تشبیہ میں تقلیب کابیانیہ‘‘ ایک علامتی افسانہ ہے۔ اس افسانے میں’’وہ‘‘کا کردار انسان ہے اور ہرن کو دنیا کا استعارہ بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ جو انسان کا دھیان وقت وقت پر اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب ہوتارہتا ہے۔ کبھی انسان دنیا کو اپنے جیسا پاتا ہے۔ کبھی وہ خود کو دنیا جیسا سمجھتا ہے۔ مور کیونکہ بندگی کی ایک نشانی مانا جاتا ہے کہ وہ بارش میں روتا ہے۔ وہ انسان کے ضمیر کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ جو اس کے ذہن پر’’ لا‘‘ کی تفہیم کو وا کرتا ہے۔ اس کے باوجود بھی انسان فریب کھاتا ہے تو اسے بابا فرید شکر گنج صوفی بزرگ نظر آتے ہیں، جو عشقِ خدا کو واضح کردیتے ہیں۔ افسانہ بلاغت کے نظام میں اس قدر رچا بسا ہے ایسا لگتا ہے ایک طلسم ہے گویا جو کسی طور شکست تسلیم نہیں کرنا چاہتا ہے۔ 

نورین علی حق کے افسانوں میں جگہ جگہ عربی، فارسی کے مصرعے، فقرے اور پنجابی کے مصرعے اس طرح استعمال ہوئے ہیں جیسے ان افسانوں کا ہی حصہ ہیں۔ تنقیدی اصطلاح میں اسے بین المتونیت کہا جاتا ہے۔ جس سے اسلوب میں غضب کی معنویت اور انفرادیت پیدا ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر افسانوں کی صورت حال تقریبا ایسی ہی ہے کہ ان میں واحد متکلم الگ الگ صورتوں میں نمودار ہوتا دکھائی دیتا ہے، جو ذہن کو جھنجھوڑتا ہے کبھی عشق کی تلقین کرتا ہے تو کبھی 'لا' کا نعرہ بلند کرتا ہے کبھی بأی ذنب قتلت میں کسی شے میں ڈھل کر وضاحت کرتا ہے۔ سرمد اور منصور کی طرح اناالحق کا نعرہ بلند کرتا ہے اور سپیدیٔ سحر میں آکر کہتا ہے:’’رباب، ام لیلیٰ، سکینہ باہر نکلو، اپنے وجود کی بقا ضروری ہے‘‘

اسی طرح افسانہ’’ پنجرے میں قید نیند ‘‘داخلی خود کلامی پر مبنی افسانہ ہے۔ میں نورین علی حق کو ان کے مجموعے کے لئے مبارکباد دیتا ہوں۔ ان کے مجموعے کو پڑھ کر ذہن متحرک ہوتا ہے اور یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کوئی انسان اتنا حساس کیسے ہوسکتا ہے۔


محمد شاہ رخ عبیر

مکان نمبر۔B-886گلی 13/2سبھاش محلہ نارتھ گھونڈا، دہلی-53

شعرائے مہاراشٹر

 شعرائے مہاراشٹر (جلد سوم-مالیگاؤں ۱۹۶۰ء کے بعد)



ایون اردو، دہلی جون 2023

2 جلد نمبر 37 شمارہ نمبر

مصنف : خلیق الزماں نصرت

ضخامت : ۱۹۰صفحات

قیمت : ۲۰۰روپے

ملنے کا پتہ : ہائوس نمبر -۲۰۱، سیکنڈ فلور، یونس ٹیلر گلی، صلاح الدین ایوبی،اسکول، بھیونڈی-421302

پیش نظر کتاب شعرائے مہاراشٹر کا تذکرہ ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ تذکرہ اردو کی قدیم صنف ہے۔ اس کی اہمیت و افادیت سے انکار کرنا ممکن نہیں۔ تذکرہ کے ذریعے قاری مختصر سے وقفے میں مختلف شعرا کے حالات زندگی، ان کی زندگی میں پیش آنے والے اہم واقعات، اس عہد کے ادبی، سیاسی و سماجی حالات کے ساتھ ساتھ شعرا کا نمونۂ کلام بھی دستیاب ہوجاتا ہے۔ اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں کہ تذکرہ نگار ایک ہی وقت میں تاریخ نگار، سوانح نگار اور نقاد کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے۔ خلیق الزماں نے تذکرہ کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ کتاب تخلیق کی ہے، اس میں تقریباً ۱۱۲ شعرا کی سوانح حیات اور ان کا نمونۂ کلام درج ہے، جن میں سے۴۰ شعرا بقید حیات ہیں۔

پہلا تذکرہ ’’لطف ہارونی کا ہے۔ یہ ۱۹۳۲ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے بزرگ الہ آباد کے رہنے والے تھے۔ مالی تنگی کے سبب تعلیم کا سفر پرائمری تک ہی محدود ہوگیا تھا، لیکن انھوں نے صنف سخن میں اپنی جگہ بنالی۔ یہ مسلم مالیگانوی کے شاگرد تھے لیکن استاد کے انتقال کے بعد ہارون شبلی سے اصلاح لینے لگے۔ خلیق الزماں نصرت لطف ہارونی کی شاعری پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’انھوں نے اپنی غزلیہ شاعری میں دوستی، محبت، اخلاق اور رواداری کی خوشبو سمودی ہے۔ طرح طرح کی شعری اصطلاح کا استعمال کر کے پرانی کہاوتوں کو رنگین بنادینے میں لطف کا جواب نہیں۔ چھوٹی بحروں میں شعر کہنا زیادہ بہتر سمجھتے ہیں۔‘‘

کتاب میں محمد اسحاق خضرؔ کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔ ان کی شخصیت اور ادبی کارنامے سے مصنف بہت متاثر ہیں۔ محمد اسحاق خضرؔ مالیگائوں میں پیدا ہوئے۔ ممبئی سے انٹر سائنس اورناسک سے بی اے کرنے کے بعد پھر ممبئی واپس آئے اور انگریزی میں ایم اے کیا۔ انھوں نے حضرت خضر کی طرح مہاراشٹر میں عام لوگوں کو تعلیم کی راہ دکھائی اور جب پرنسپل کے عہدے پر فائز ہوئے تو اپنے علاقہ میں گھر گھر جاکر تعلیم کی دعوت دی۔ مصنف محمد اسحاق کی شخصیت کے ساتھ ان کے نمونۂ کلام پر روشنی ڈالتے ہیں، جس سے احساس ہوتا ہے کہ محمد اسحاق خضرؔ کے کلام میں دنیا کی بے ثباتی کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔

کتاب دو حصوں پرمشتمل ہے۔ شعرائے قائماں اور شعرائے رفتگاں۔ حصہ اول سے دو شعرا پر گفتگو کرنے کے بعد شعرائے قائماںسے مسلم مالیگائوں کا تبصرہ ضروری ہے۔ یہ ۱۹۰۱ء میں مالیگائوں میں پیدا ہوئے۔ شاعری کے میدان میں خاص مقام حاصل کیا۔ ایک بہترین لائبریری کے موجد تھے۔ سرسید کی تحریک اور ان کے خیالات سے بہت متاثر تھے، اس کے زیر اثر ایک انگلش اسکول کی بنیاد ڈالی اور غزلوں کی جگہ نظمیں لکھیں۔ان کے شاگردوں کی لمبی فہرست ہے، جنھوں نے ملک اور قوم کی خوب خدمت کی اور کامیاب زندگی کے مالک رہے۔

اسی طرح دیگر شعرا پر بھی عمدہ تذکرہ کیا گیا ہے۔ ظاہر ہے یہاں ان سب پر تبصرہ ممکن نہیں تھا۔ پیش لفظ محمد اسحاق خضرؔ نے لکھا ہے جو اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے بعد مصنف نے ’’اپنی بات’’ میں مہاراشٹر خصوصاً مالیگائوں کے بارے میں جو معلومات فراہم کی ہیں وہ خاصی دلچسپ اور اہم ہیں۔ مالیگائوں کی تاریخ، اس شہر کے آباد ہونے کے ساتھ ساتھ جس طرح اس کے محل وقوع کو قلم بند کیا گیا ہے اس سے مصنف کی مالیگائوں سے انسیت کا علم ہوتا ہے۔

خلیق الزماں نصرت نے قدیم تذکروں کا ذکر کرتے ہوئے موجودہ دور میں اس کی اہمیت اور ضرورت پر بھی فنکارانہ روشنی ڈالی ہے۔ یہ جلد سوم ہے امید ہے کہ آئندہ بھی اس کی اور جلدیں اسی طرح بھرپور معلومات کے ساتھ جلد ہی منظر عام آئیںگی۔ مصنف کی محنت و کاوش یقیناً قابل تعریف ہے۔ یہ کتاب دیگر ریاستوں کو مالیگائوں کی ادبی سرگرمیوں سے متعارف کرواتی ہے۔ آخر میں مبارکباد دینا چاہوںگی خلیق الزماں نصرت کو کہ انھوں نے اپنے شہر کے شعراکو اس کتاب کے ذریعہ زندۂ جاوید کردیا ہے۔

عقیلہ

3040، دوسری منزل، گلی قاضی واڑا، نئی دہلی-110002

موبائل: 8810597993


تدوین متن کی روایت: آزادی کے بعد

  تدوین متن کی روایت: آزادی کے بعد



مؤلف : صابر علی سیوانی

ضخامت : ۸۳۲

 قیمت : ۸۰۰؍روپے

ناشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی

صابر سیوانی جہاں تنقیدو تحقیق کا اہم نام ہے وہیںادب و صحافت سے ان کا رشتہ بڑا گہرا ہے۔انھیں منفرد، اچھوتے اور جدید موضوعات پر کام کرنے میں لطف آتا ہے، یہی وجہ ہے کہ بہت جلد انھوں نے تصنیف و تالیف کے نقشہ میں اپنی پہچان قائم کرلی ہے۔ وہ پرانی قدروںکے امین، قدیم روایتوں کے علم برداراور کلاسیکی منہاج ومعیار کے پرستار ہیں اور اردو زبان و ادب کی اسی انداز و اطوار میں اصلاح و فروغ کے لیے کوشاں بھی رہتے ہیں۔ ان کی فکر و سوچ کامحور صحیح اردو دانی کا فروغ اور اغلاط سے پاک اردو لکھنے والوں کی قدر شناسی اور ان کی حوصلہ افزائی رہا ہے۔

ان کی تازہ ترین اور ضخیم ترین کتاب’تدوین متن کی روایت:آزادی کے بعد‘ ہے،جس میں انھوں نے اردو میں تدوین متن کی روایت کا عہد بہ عہد مبسوط جائزہ لیا ہے اور مختلف اہم مدونین متون کے حوالے سے مفصل و مطول بحث کی ہے۔پروفیسر بیگ احساس کے قلم سے پیش لفظ اور مصنف کے قلم سے ابتدائیہ کے بعد درج ذیل ابواب میں کتاب کو منقسم کیا گیا ہے۔باب اول:تدوین متن کے ابتدائی نقوش، اس باب میں تدوین متن کی تعریف،آیات قرآنی کی جمع آوری اور احادیث کی تدوین کے ساتھ ام الالسنہ عربی اور فارسی زبانوں میں تدوین متن کی روایت کا جائزہ لیاگیا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ اردو میں تدوین متن کی روایت کی بنیاد تدوین حدیث کے اصول و مبادی پر رکھی گئی ہے۔ باب دوم:اردو میں تدوین متن کی روایت ہے، جس میں انھوں نے اردو میں تدوین متن کی روایت کا عمومی حال احوال رقم کیا ہے اور لکھا ہے کہ اردو میں تحقیق و تدوین متن کی روایت فورٹ ولیم کا لج اور دہلی کالج سے پہلے نظر نہیںآتی، یہ دونوں ادارے تحقیق کی بابت زینۂ اول کی حیثیت رکھتے ہیں۔انھوں نے اس باب میں سر سید احمد خاں سے لے کر موجودہ عہد تک کے مدونین کی خدمات کا بسیط جائزہ پیش کیا ہے۔ باب سوم:تدوین متن کی روایت آزادی سے قبل ہے، اس باب میں انھوں نے چند اہم مدونین متن کی تدوینات کے حوالے سے بحث و مباحثہ کیا ہے۔ وہ چند اہم مدونین یہ ہیں۔ بابائے اردومولوی عبد الحق، حافظ محمود شیرانی، امتیاز علی خاں عرشی، پروفیسر عبد القادر سروری۔ کتاب کا باب چہارم ہے:تدوین متن کی روایت آزادی کے بعد، جواس کتاب کا اساسی اور بنیادی موضوع ہے اور جس کے دائرے میں انھوں نے آزادی کے بعد کے اہم اور منفرد اور روایت سازمدونین متن کی خدمات اور ان کے دائرۂ کار کا تفصیل کے ساتھ جائزہ لیا اور ان کاناقدانہ احتساب کرتے ہوئے ان کی خوبیوں اور خامیوں کی طرف صریح اور واضح اشارے کیے ہیں۔اس باب میں انھوں نے مسعود حسن رضوی ادیب، قاضی عبد الودود، پروفیسر مسعود حسین خان، مالک رام، ڈاکٹر جمیل جالبی، پروفیسر نور الحسن ہاشمی، پروفیسر نذیر احمد، خلیق انجم، پروفیسر سیدہ جعفر، مختار الدین احمد آرزو، نثار احمد فاروقی، رشید حسن خان اور پروفیسر حنیف نقوی کی تدوینی خدمات کا مفصل تجزیہ پیش کیا ہے، اس باب میں انھوں نے بے باکانہ انداز میں خامیوں کی گرفت کی ہے اور جہاں جہاں انھیں خوبیاں نظر آئی ہیں ان سے گریز نہیں کیا ہے،بلکہ ان کا بھی خلوص دل سے اعتراف کیا ہے۔باب پنجم حاصل مطالعہ ہے جس میں پوری کتاب کی تلخیص پیش کی گئی ہے اور یہ بتایا ہے کہ انھوں نے اپنی تحقیقی پیش کش میں کن امور و نکات کی پابندی کو مشعل راہ بنایا ہے۔

صابر علی سیوانی نے اردو کے تقریباً تمام اہم مدونین کے کارناموں کا بسیط جائزہ اس کتاب میں پیش کیا ہے اور بغیر کسی لاگ لپیٹ کے تکملہ اور تتمہ کے طور پر اپنی رائے بھی پیش کی ہے۔پروفیسر سیدہ جعفر اپنے عہد کی نامور محقق، مدون اور تنقید نگار شمار کی جاتی ہیں، انھوں نے بھی بہت سے کلاسیکی متون کی بازیافت کرکے انھیں اپنے طویل و بسیط اور پر از معلومات مقدمے کے ساتھ شائع کروایا۔ شاہ تراب کی منظوم تصنیف’من سمجھاون‘کو۶نسخوں کی مدد سے اپنے عالمانہ مقدمہ کے ساتھ مدون کرکے اشاعت کے مرحلے سے گزارا، مگر ان سے بھی بہت سے امور کی تکمیل میں تسامح ہوا ہے۔لکھتے ہیں: ’’مرتب متن نے اس مخطوطے کے خط کے بارے میں،روشنائی کے متعلق کچھ بھی وضاحت نہیں کی ہے اور نہ ہی یہ بتایا ہے کہ مخطوطہ کس سائز کا ہے۔ اس کی چوڑائی لمبائی کتنے انچ پر مشتمل ہے۔ خوش خط ہے یا بد خط۔ حالاں کہ ان تمام چیزوں کی وضاحت مرتب متن کے لیے ضروری ہوتی ہے۔‘‘(ص:۵۸۳)

وہیں اپنے عہد کے مشہور محقق و مدون رشید حسن خان کے حوالے سے، جنھیں خدائے تدوین کہاجاتا ہے،ان کی بڑی تعریف کی ہے : زیر نظر کتاب بڑی محنت و عرق ریزی اور جاں فشانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھی گئی ہے،ایک ایک صفحہ سے ان کی دیدہ ریزی مترشح ہوتی ہے، اسی لیے ان کے نگراںپروفیسر بیگ احساس نےبھی ان کے کام کو سراہا ہے۔ 

صابر علی سیوانی کی زبان بہت ہی صاف شفاف اور رواں ہے۔ تحقیق و تدوین کی زبان میں جس قدر سنجیدگی، ضبط و سکون اور متانت و دیانت ہونی چاہیے وہ ہر لفظ اور ہر سطر سے نمایاں ہے۔ ان کی نثر سادہ تو ہے، مگر وہ ادبیت سے مملو ہے، وضاحت و صراحت اور قطعیت ان کی نثر کی پہچان ہے۔ 

امید ہے کہ ان کی دیگر کتابوں کی طرح یہ کتاب بھی علمی حلقوں میں پسند کی جائے گی اوراس سے مصنف کو دیگر علمی و تحقیقی کاموں کی تکمیل کی تحریک و ترغیب ملے گی۔ 

ابرار احمد اجراوی

مقام و پوسٹ اجرا، وایا رایم ،فیکٹری، ضلع مدھوبنی-847337، بہار


الیاس احمد گدی: حیات و نشانات

الیاس احمد گدی: حیات و نشانات



ایون اردو، دہلی جون 2023

2 جلد نمبر 37 شمارہ نمبر

مرتب : ڈاکٹر ہمایوں اشرف

ضخامت : ۹۴۴صفحات

قیمت : ۵۳۴ روپے

ناشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، 

انصاری روڈ، دریا گنج، نئی دہلی-۲

ڈاکٹر ہمایوں اشرف اردو ادب میں محتاج تعارف نہیں ہیں۔ انھوں نے ایک سنجیدہ محقق، قابل استاد اور دوررس اور بالغ نظر ناقد کے طور پر اپنی پہچان بنائی ہے۔ بطور صحافی بھی ایک عرصے تک خدمات انجام دی ہیں۔ میں انھیں اس وقت سے جانتا ہوں جب وہ قومی تنظیم کا ادب ایڈیشن ترتیب دیا کرتے تھے۔برسوں پہلے جب اردو ناقدین ابن صفی پر لکھنے یا بات کرنے سے گریز کرتے تھے، ہمایوں اشرف نے قومی تنظیم کا پورا ایک صفحہ ابن صفی کے نام کیا تھا اور وہ صفحہ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔’’اردو صحافت: مسائل و امکانات‘‘، ’’فکشن سے پرے‘‘،’’فکشن کی بازیافت‘‘، ’’متن اور مفہوم‘‘،’’ غیاث احمد گدی: فرد اور فنکار‘‘،’’ معنیٰ نما‘‘،’’ شناخت اور ادراک معنیٰ‘‘،’’عبدالصمد عکس در عکس‘‘،’’ کلیات منٹو‘‘(سات جلدیں)، ’’زکی انور:جائزے اور افسانے‘‘، ’’وہاب اشرفی ::منفرد نقاد اور دانشور‘‘،’’رضا نقوی واہیؔ: آئینہ در آئینہ‘‘ وغیرہ ان کی کتابیں ہیں۔ انھوں نے الیاس احمد گدی، غیاث احمد گدی اور رضا نقوی واہی پر مونوگراف بھی تحریر کیے ہیں۔ حال ہی میں انھوں نے شفیع مشہدی کے نمائندہ افسانوں کو بھی مرتب کیا ہے۔ہمایوں اشرف خاموشی سے کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں اور انھوں نے نامور نقاد ومحقق پروفیسر وہاب اشرفی کے زیر سرپرستی تنقید کے اسرار و رموز سے آگاہی حاصل کی ہے۔اردو فکشن ان کا خاص میدان رہا ہے، اس حوالے سے ان کے مضامین تواتر سے چھپتے رہے ہیں۔حال ہی میں انھوں نے ’’الیاس احمد گدی: حیات و نشانات‘‘ کے عنوان سے ایک ضخیم وحجیم کتاب ترتیب دی ہے۔یہ کتاب الیاس کی حیات و خدمات کا مکمل احاطہ کرتی ہے اور الیاس احمد گدی کی شخصیت و فکشن نگاری پر انسائیکلو پیڈیا کا درجہ رکھتی ہے۔ الیاس کی ادبی زندگی کا شاید ہی کوئی گوشہ ہو جو اس کتاب میں شامل ہونے سے رہ گیا ہو۔

اس کتاب کو چھ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے باب میں الیاس احمد کی سوانح اور حیات و خدمات پر مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ اس باب سے قبل پروفیسر علیم اللہ حالی نے بعنوان ’’استقبال‘‘ ہمایوں اشرف کی اس کوشش کی ستائش کی ہے۔

پہلے باب میں پرکاش فکری، ظہیر غازی پوری، محمد منصور عالم، انور پاشا، رونق شہری، راشد انور راشد، شاذیہ عمیر،محمد غالب نشتر وغیرہ کے مضامین ہیں۔ دوسرا باب الیاس احمد گدی کے تین مصاحبوں پر مبنی ہے جس کا عنوان’’ گفتار الیاس‘‘ رکھا گیا ہے۔ راشد انور راشد، شہاب اختر اور فیروز عالم نے الیاس احمد گدی سے بہترین بات چیت کی ہے اور ہم عصر ادبی منظرنامے پرالیاس احمد گدی نے بھی پرمغز گفتگو کی ہے۔ تیسرے باب’’ فسانۂ الیاس‘‘ میں گدی صاحب کی افسانوی خدمات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔اس حصے میں وارث علوی، محمد محفوظ الحسن، عبدالقیوم ابدالی، ہمایوں اشرف، احمد صغیر، اختر آزاد، رضوانہ پروین،محمد معین الدین اور مہاتب پیکر اعظمی کے مضامین شامل ہیں۔ اس باب کے بعد’’ الیاس احمد گدی کے بکھرے افسانے‘‘ کے نام سے ایک باب قائم کیا گیا ہے جس میں الیاس کے چھ ایسے افسانے رکھے گئے ہیں جو ان کے کسی افسانوی مجموعے میں شامل نہیں ہیں۔یہ افسانے ہیں۔’’ٹام جیفرسن کے پنجرے‘‘،’’ آخری حربہ‘‘، ’’داشتہ‘‘، ’’گھر بہت دور ہے‘‘، ’’سنائوں تمہیں بات ایک رات کی ‘‘اور’’ شناخت‘‘۔ ’’ثبات الیاس‘‘ کے زیر عنوان الیاس احمد گدی کی ناول نگاری کے حوالے سے مضامین شامل ہیں۔

’’ثبات الیاس‘‘ کے تحت کل ۳۴ مضامین شامل کیے گئے ہیں۔ کچھ مضامین میں تکرار بھی نظر آتی ہے اور اگر صرف ’’فائر ایریا‘‘ پر مبنی مضامین کو کتاب سے الگ کردیں تو ایک اور ضخیم کتاب تیار ہو سکتی ہے۔ان مضامین میں عبدالمغنی، شمیم حنفی،احمد یوسف،منظراعجاز، نارنگ ساقی، انیس رفیع، نامی انصاری، مصطفیٰ کریم،مناظر عاشق ہرگانوی،قیصر شمیم،علی احمد فاطمی،منظرحسین،اظہار خضر،مشرف عالم ذوقی، حامد علی خاں،آفتاب احمد آفاقی، شہاب ظفر اعظمی، آصف سلیم، عارفہ بشریٰ،نکہت زماں وغیرہ کی تحریریں قابل ستائش ہیں۔ دیگر مضامین بھی محنت سے لکھے گئے ہیں۔ ان مضامین میں مجھے اظہار خضر کا مضمون زیادہ وقیع لگا اور اس میں ناول کے حوالے سے بھرپور گفتگو کی گئی ہے۔پروفیسر شمیم حنفی نے بھی ناول کی تعریف کی ہے اور اسے اچھوتا ناول قرار دیا ہے۔ 

کتاب میں آخر کے دوابواب ’’اسفار الیاس ‘‘اور’’ تراجم الیاس‘‘ ہیں۔اسفار کے تحت الیاس احمد گدی کے بنگلہ دیش کے سفر پر مبنی سفرنامہ ’’لکشمن ریکھا کے پار‘‘ کے حوالے سے آفتاب احمد آفاقی، سرور حسین، فیروز عالم، علام الدین اور شمس الہدیٰ انصاری کے مضامین ہیں۔ الیاس احمد گدی نے پھنیشور ناتھ رینو کی کہانیوں کا ہندی سے اردو میں ترجمہ کیا تھا جو نیشنل بک ٹرسٹ سے شائع ہوا تھا۔ اس ترجمے پر ہمایوں اشرف کا ایک مضمون بعنوان ’’الیاس احمد گدی بحیثیت مترجم‘‘ شامل کتاب ہے۔ واقعی یہ کتاب الیاس احمد گدی پر دستاویزی حیثیت رکھتی ہے اور الیاس کے حوالے سے مستقبل میں تحقیقی کام کرنے والوں کے لیے اہم کتاب ثابت ہوگی۔

عبدالحی

شعبۂ اردو، سی ایم کالج، دربھنگہ، بہار


جنگل جنگل

جنگل جنگل

مصنف : ڈاکٹرمحبوب حسن

ضخامت : ۶۵صفحات

قیمت : ۵۰روپے

ناشر : ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، دریاگنج،نئی دہلی-۲

ڈاکٹر محبوب حسن اس سے پہلے بھی بچوں کے ادب پر سنجیدگی سے لکھتے رہے ہیں۔ وہ ہیں تو جے این یو کے فارغ التحصیل اور پی ایچ ڈی ہولڈر مگر ان کا دل بچوں کا ادب خلق کرتے ہوئے اسی مزاج میں ڈھل جاتا ہے جس کے گواہ ہم جیسے کئی لوگ ہوں گے۔ تتلی رانی ادب اطفال کے حوالے سے ان کی پہلی کتاب تھی جسے خوب پذیرائی ملی تھی۔ زیر نظر کتاب ’’جنگل جنگل‘‘ میں نثر اورنظم دونوں شامل ہیں۔یہ کہانیاں اور نظمیںماہنامہ بچوں کی دنیا، امنگ ،پیام تعلیم، گلشن اطفال، گل بوٹے،غبار،صدائے اطفال،ہلال،فن کار ،اچھا ساتھی اور باغیچہ جیسے اہم ادبی رسائل کی زینت بن چکی ہیں۔زیر تبصرہ تخلیق ’’جنگل جنگل‘‘ کا امتیازی وصف یہ ہے کہ اس میں شامل تمام تحریریں ماحولیات سے متعلق ہیں۔اس کے ذریعہ ڈاکٹرمحبوب حسن نے جنگل،آبشار، پیڑ، پہاڑ، بادل، بارش،ہاتھی، خرگوش، بلی، بندر، مچھلی، مینڈک، ندی جیسے خالص قدرتی اور ماحولیاتی موضوعات کو اپنی کہانیوں اور نظموں میں خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔وہ ماحولیاتی بیداری کے متعلق فکر مند نظر آتے ہیںجس کا اظہار پیش لفظ میں کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ خدا کی بنائی ہوئی اس حسین دنیااور اس کی بیش بہا نعمتوں کا تحفظ ہماری بنیادی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ 

کہانیوں کی بات کریں تواس کتاب میں پانچ کہانیاں ؛’کہانی جنگل کی‘، ’شرارتی شیر‘، ’چالاک بندر‘، ’درختوں کی دوستی‘ اور ’عقلمند خرگوش‘ شامل ہیں جو اپنے دلکش عنوانات کے اعتبار سے بھی نونہالوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں۔ان کہانیوں میں قدرتی حسن و دلکشی کو خوبصورت اسلوب میں پیش کیا گیا ہے۔ان کہانیوں کے پڑھنے سے نہ صرف بچے میں شعور و احساس کی قوت پیدا ہوتی ہے بلکہ وہ غیر شعوری طور پر اردو زبان بھی سیکھ رہا ہوتا ہے۔ بلاشبہ ایسی صورت حال میں ’’جنگل جنگل‘‘ نئی نسل کی ذہنی آبیاری کے لیے سودمند ثابت ہوگی۔ 

’’جنگل جنگل‘‘ میں شامل نظمیں اپنے ماحولیاتی موضوعات اور انداز پیش کش کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہیں۔ ان نظموں میں ایک نوع کا فطری پن، سلاست اور روانی ہے۔ ’’گیت سناتی کوئل‘‘’’ہاتھی آیا! ہاتھی آیا‘‘’’جھوم رہی ہے ڈالی ڈالی‘‘’’اڑ جاتی چڑیا‘‘’’چھائے بادل‘‘’’آتی شام‘‘ ’’پیڑلگاؤ‘‘ ’’سیانی مچھلی‘‘ ’’سحر ہو گئی‘‘ ’’آیا بندرآیا بندر‘‘’’متوالی تتلی‘‘’’بلی موسی‘‘ اور’’مینڈک‘‘ جیسی نظمیں نونہالوں کی ذہنی اور نفسیاتی سطح کے پیش نظرتخلیق کی گئی ہیں۔یہ نظمیں بچوں کے دل و دماغ میں ماحولیاتی اقدار کے تئیں دلچسپی پیدا کرتی ہیں۔ان نظموں میں بہت سی خوبیاں ہیں۔ ان میں روانی ہے ، سادگی ہے، جذبات ہیں ، بچوں کو عام طور پر پسند ہونے والی فضا اور کردار ہیں ، زبان سادہ اور لے نغمگی سے لبریز ہے۔ ان نظموں کی روانی اورنغمگی کے سبب انہیں یاد رکھنا آسان ہے۔ 

بلا شبہ ادب اطفال کی عصری صورت حال کے پیش نظر یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ ’’جنگل جنگل ‘‘بچوں کے لیے ایک خوبصورت تحفہ ہے۔ امید کہ یہ کتاب ادب اطفال کی موجودہ روایت کومزیدمستحکم کرنے میں معاون ثابت ہوگی۔ کتاب کا سرورق نہایت خوبصورت اور جاذب نظر ہے۔ کتاب کی قیمت بھی مناسب ہے۔ ’’جنگل جنگل ‘‘ کی اشاعت پر میں ڈاکٹر محبوب حسن کودلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔امید ہے کہ ان کی یہ تخلیقی کاوش ادبی حلقے میں خاطرخواہ مقبول ہوگی۔ 

رضی شہاب

شعبۂ ا ردو، ویسٹ بنگال اسٹیٹ یونیورسٹی،بیرونان پوکوریا،ملکاپور،برسات

نارتھ ۲۴پرگنہ، کولکاتہ-700126


اردو صحافت کا سرفروشانہ کردار

اردو صحافت کا سرفروشانہ کردار ڈاکٹر سمیع احمد اردو ایک زندہ اور متحرک زبان ہے ،اس نے ہمیشہ ملک کی تعمیر وترقی میں ایک متحرک کردار اداکیا۔ملک...