Showing posts with label مضمون. Show all posts
Showing posts with label مضمون. Show all posts

Monday, June 12, 2023

راہی معصوم رضا کے ناولوں میں نئے رشتوں کی تلاش

 

راہی معصوم رضا کے ناولوں میں نئے رشتوں کی تلاش

ڈاکٹر جگدمبا دوبے

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ صدیوں سے ساتھ رہنے کے باوجود ہندوستان کے ہندو اور مسلمان ساتھ رہنا اب تک نہیں سیکھ سکے ہیں۔ انگریزوں کے زمانے میں ہم یہ کر خود کو تسلی دیتے تھے کہ ہندو مسلم کو لڑانے والے انگریز ہیںاور جب یہ چلے جائیںگے تو یہ مسئلہ خود ہی ختم ہو جائے گا۔انگریز چلے گئے اور جاتے جاتے پاکستان کی تعمیر کر گئے لیکن ہندو مسلم کے رشتوں کے مسائل اپنی جگہ پر رہ گئے۔یہ بھی سچ ہے کہ مہاتما گاندھی کے اس ملک میں ہندو اور مسلم کے بیچ نفرت،خوف اور شک میں اضافہ ہی ہوا ہے۔مسلمان کہتا ہے کہ وہ اس ملک میں دوئم درجے کا شہری ہے کہ ہندو اس کے مذہب اور تہذیب کو ختم کر دینا چاہتا ہے۔ہندو کہتا ہے کہ مسلمان اس ملک کے تئیں وفادار نہیں ہے وغیرہ وغیرہ۔سیکڑوں اس طرح کی باتیں ہیںجو ہماری آنکھ میں انگلی ڈال کر اس تلخ حقیقت کو دکھا رہی ہیں کہ ہندو مسلم رشتے دن بہ دن بد تر ہوتے جا رہے ہیں اور سیاسی پارٹیوں میں تو اس حالت کو اور بھی بدتر بنانے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے۔اس میں ان کا اپنا مفاد دکھائی دے رہا ہے۔تقسیم ہند کے بعد ہندوستان میں مسلمانوں کے حالات بہتر نہیں تھے ۔سیاسی فائدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان کے سیدھے سادے عوام کو سیاست کا مہرا بنایا گیا۔عوام اس سیاست سے پوری طرح بے خبر مذہب کے نام پر مرنے مارنے کو تیار تھے۔پاکستان کی شکل میں آزاد حکومت بن جانے کی وجہ سے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے مسائل کا کوئی راستہ نہیں نکلابلکہ یہ مسائل اور بھی بڑھ گئے۔

راہی معصوم رضا نے اپنے ناول ــ ’’ٹوپی شکلا ‘‘کے ذریعہ ہندو مسلم رشتوں کے مسائل کو اس کے صحیح ضمن میں دیکھنے اور تحریر کرنے کی کوشش کی ہے۔راہی معصوم رضا کی خاصیت یہ ہے کہ انھوں نے اس مسئلے پہ بے حد غور و فکر کرنے کے بعد کچھ لکھنے کی کوشش کی ہے۔اس مسئلے کو جتنے صحیح طریقے سے ایک مسلمان ادیب بیان کر سکتا ہے اتنے اچھے انداز میں ایک ہندو ادیب نہیں بیان کر سکتا۔راہی کو اس میں کامیابی اس لیے ملی ہے کہ وہ اپنے تئیں ایماندار ہیں اور ان کا نظریہ صاف ہے جس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔انھوں نے ہندو مسلم رشتوں کو خود بھی دیکھا ہے جو کہ غالباًہندوستان میں ہندو ادیب کے لیے ممکن نہیں ہے۔راہی کی خوبی یہ ہے کہ انھوں نے خود اس وقت اور حالات میں زندگی گزاری ہے اسی لیے ان حالات کو صحیح انداز میں بیان کر سکے ہیں۔ایمانداری سے ایک ناول نگار کی رسائی جہاں تک ہو سکتی ہے وہاں تک اس ناول میں ہوئی ہے۔ناول مختصر ضرور ہے لیکن ناول نگار نے ہندو مسلم رشتوں کے بہت سے پہلوؤں کو بے حد صفائی اور تلخی کے ساتھ پیش کیا ہے۔

ناول میں کسی بھی قصے کے بیان کی دو صورتیں ہوا کرتی ہیں۔اول تو سیدھے سادے واقعات کو کڑی دو کڑی جوڑ کر کرداروں کو اس طرح پیش کرنا کہ قاری اسے پڑھ کر محض اپنا وقت گزار سکے،محظوظ ہو سکے۔دوم یہ کہ قصہ انسانی زندگی کے ایسے موڑ سے اٹھایا جائے جس میںایک پورے سماج، پورے کلچر، اس کے افراد اور افراد کے ارد گرد الجھتی، سلجھتی زندگی، زندگی کی پیچیدگیاں، گتھیاں، مسائل حقائق،جدو جہد، کڑوی اور سچی حقیقتیں، نفسیاتی کشمکش اور داخلیت و خارجیت کا فنکارانہ بیان اس طرح پیش کیا جائے کہ قاری کے ذہن میں واضح ہو جائے۔ ناول کا فن زندگی کا فن ہے۔ ناول کی تمام تر کوشش زندگی کو بھرپور طریقے سے پیش کرنے پر مرکوز ہوتی ہے۔ چونکہ زندگی کی کوئی حد نہیں ہوتی اور اس میں تاریخ بھی آتی ہے اس لیے اگر زندگی میں تاریخ اور تاریخ میں زندگی نہیں تو کوئی بھی تخلیق محض رومان کے دم پر تخلیق تو ہو جائے گی لیکن زندگی کی حرارت اور حقیقت سے زیادہ واسطہ نہ ہوگا۔

راہی ایک اچھے قصہ گو ہیں اس بات کی تصدیق ان کے ناول آدھا گاؤں سے ہو چکی ہے۔ٹوپی شکلا میں بھی ان کی قصہ گوئی کے بہترین نمونے ملتے ہیں۔اس میں راہی کی بے تکلفی قاری کو بے حد متاثر کرتی ہے۔ناول میں عفن اور ٹوپی کے بچپن کی ملاقات اور دوستی والے منظر نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ راہی منظر نگاری میں بھی کسی ڈرامائی ناول نگار سے کم نہیں۔جب انھیں کہانی کہنی ہوتی ہے تو قاری کے بیچ آ جاتے ہیں اور وہاں وہ کہانی نہیں کہتے بلکہ قارئین کو آمنے سامنے مخاطب کرتے ہیںاور ناول کی تکنیک پر بھی دو دو باتیں کر لیتے ہیں جس کے نتیجے میں پورے ناول میں ایک ایسا ماحول پیدا ہو گیا ہے کہ جو قاری کو باندھے بغیر نہیں رہتا۔کرداروں کی شخصیت کی تعمیر میں بھی راہی کو کامیابی ملی ہے۔وہ ادنیٰ سے ادنیٰ کردار کو بھی قاری کی قربت اور ہمدردی دلانے میں کامیاب ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نہ صرف ٹوپی اور عفن جیسے اہم مرکزی کردار بلکہ دادی،سکینہ اور شبنم جیسے دوسرے کردار بھی ہمیں بے حد متاثر کرتے ہیں۔

ہمت جونپوری کی کہانی ایک ایسے غیر مسلم کی کہانی ہے جو زندگی بھر جینے کا حق مانگتا رہا۔ پورا ناول سیرت کی شکل میں تحریر کیا گیا ہے۔اس میں غازی پور میں پیدا ہوئے ،بڑھے اور ممبئی میں اپنی زندگی ختم کرنے والے ہمت جونپوری کی کہانی ناول نگار نے بے حد قربت اور ہمدردی کے ساتھ بیان کی ہے۔کہانی کی شروعات ہمت کے دادا دلگیرجونپوری سے ہوتی ہے اور ناول نگار دو نسلوں کی کہانی سننے کے بعد اپنے ہیرو کی زندگی میں داخل ہوتا ہے۔ٹوپی شکلا اگر ہندو مسلم رشتوں کی کہانی ہے تو ہمت جونپوری ایک ہندوستانی مسلمان کی کہانی ہے جو ہندوستان کی مٹی میں پیدا ہوا ہے اور وہیں کی مٹی میں مل جاتا ہے۔جب کہ اس کے نام میں جونپوری لگا ہوا ہے لیکن اس کی رہائش غازی پور ہے۔غازی پور سے وہ اتنی ہی محبت کرتا ہے جتنا کوئی ہندو کر سکتا ہے۔وہ ممبئی جا کر بھی غازی پور کو نہیں بھولتا اور مرتے وقت بھی اس کی زبان پر غازی پور ہی رہتا ہے۔گویا کہ راہی نے ہمت جونپوری کی شکل میں ایک ایسے مسلمان کو پیش کیا ہے جو پوری طرح ہندوستانی ہے۔مسلمان کے تعلق سے راہی کا جو تصور ہے وہ ہمت جونپوری میں پوری طرح سے دکھائی دیتا ہے۔ہمت جونپوری مسلم خاندانی زندگی کی مستند دستاویز بھی ہے۔مسلم خاندان کا اس سے اچھا اندرونی پس منظرشاید ہی کہیں اور ملے۔ناول نگار نے غازی پور کے مسلم خاندان کی زندگی کو شطرنج کی بساط کی طرح سامنے بچھا دیا ہے۔زیادہ تر کردار بھوجپوری سے ملی ہوئی مسلمانی ہندی بولتے ہیںجو پورے ماحول میں ایک بے تکلفی پیدا کر دیتی ہے۔

راہی معصوم رضا کا طرز تحریر بے حد پر اثراور غیر رسمی ہے۔ناول نگار اپنے طنزو مزاحیہ انداز سے معمولی صورت حال کو بھی دلچسپ بنا دیتا ہے۔مثلاًــ :

’’ٹوپی شکلا میں ایک جگہ لکھتے ہیںکہ’غرض کہ پنڈت بلبھدر نارائن شکلا کو رات کے ٹھیک بارہ بجے پیدا ہو جانا پڑا ۔‘‘ (ٹوپی شکلا،ص:۱۹)

یا

’’اس نے ڈرتے ڈرتے بچے کی طرف دیکھا ،وہ اپنی بے حد بلیک انڈ وہائٹ آنکھوں سے چھت کی طرف دیکھ رہا تھا۔‘‘(ٹوپی شکلا،ص:۲۵)

تمام مستی اور لاپروائی کے درمیان راہی اندر سے بےحد بے چین انسان تھے۔ان کی اس بے چینی کا سبب ان کا اپنا ضمیرتھا جو ان کو چپ نہیں بیٹھنے دیتا تھا۔مسلسل کچھ کہنے اور کرنے کے لیے اکسایا کرتا تھا ۔وہ ایک حساس انسان تھے ۔ان کی چمڑی اتنی موٹی نہیں تھی جو وہ سب جذب کرلے جو ان کے اطراف کے ساتھ ساتھ پورے سماج اور ہندوستان میں ہو رہا تھا۔اس کا المناک احساس انھیں بےچین کرتا تھا اور وہ قلم اٹھا کر لکھنے لگتے تھے۔ہم سب کے درمیاں سے بے وقت چلے جانے کا سبب یہ ان کی بےچینی تھی۔یہ تو نہیں معلوم کہ وہ اپنے اہل خاندان کے لیے کیا کچھ چھوڑ کر گئے لیکن ان کے جس چھوڑے ہوئے کو ہم سب اور پوری ادبی دنیا جانتی ہے وہ ہے ان کی انسانی شخصیت۔ایک تخلیق کار کی شکل میں اپنی تخلیقی دنیا میں جو شہرت ان کو ملی وہ سب کو نصیب نہیں ہوتی۔

راہی بطورانسان اور تخلیق کار تو تا زندگی محتاط رہے لیکن زندگی میں ایسے مواقع بھی آتے رہے جب وہ بے حد جذباتی ہو جایا کرتے تھے خاص طور سے تب جب انھیں اس بات کا احساس دلایا جاتا تھا کہ وہ اس ملک کے لیے اس لیے پرائے ہیں کہ وہ مسلمان ہیں۔ایسے موقعوں پر وہ ناراض نظر آتے ہیں۔وہ جب تک زندہ رہے انسان کو ہندو اور مسلمان میں بانٹنے والی سوچ کے خلاف لڑتے رہے۔ ’’آدھاگاؤں‘‘ کے دیباچے میں انھوں نے اس تنگ ذہن کے وارثوں کو للکارا ہے کہ جس کو گنگولی ۔غازی پور سے اعظم گڑھ ۔رائے بریلی جانا ہو جائے ،وہ الگ گھر ،اپنا گاؤں،اپنی جائے پیدائش چھوڑ کر کہیں نہیں جائیںگے۔ پاکستان بنا۔ملک کے ٹکڑے ہوئے ،راہی کی عمر اس وقت بیس سال کی تھی اور جس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں زیر تعلیم تھے اس وقت وہاں دو قومی نظریے تھے،لیکن راہی کے ذہن پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ان کی اپنی گنگولی سے بھی لوگ اپنی بیوی، بچوں، بوڑھے ماں باپ کو چھوڑ کر جنت کی بستی میں بسنے جا رہے ہیں۔ان باتوں کا راہی پر بالکل اثر نہیں پڑا اور راہی اپنی زمین پر قائم رہے اور پاکستان نہیں گئے۔وہ اپنی ماں سے الگ نہیں ہوئے خواہ وہ علی گڑھ یونیورسٹی ہو یا پھر گنگا۔نفرت کی بنیاد پر بنا پاکستان ان کو پسند نہ آیا۔ان کا جینا مرنا سب ہندوستان کے لیے ہوا اور گنگا سے اپنے ماں بیٹے کا رشتہ انھوں نے آخری سانس تک نبھایا۔

گنگا پر ہمیشہ سے لکھا جاتا رہا ہے اور راہی نے بھی لکھا ہے۔ گنگا ان کے ساتھ ہمیشہ رہی ہے،غازی پور میں بھی اور ممبئی میں بھی۔گنگا راہی کے لیے کیا تھی اور کیا رہی ہے، اسے کچھ اس طرح لکھتے ہیں...

مجھے لے جا کے غازی پور میںگنگا کی گودی میں سلا دینا

وہ میری ماں ہے،وہ میرے بدن کا زہر پی لے گی

مگر شاید وطن سے دور،اتنی دور موت آئے

جہاں سے مجھ کو غازی پور لے جانا ناممکن ہو،تو پھر مجھ کو

اگر اس شہر میںچھوٹی سی ایک ندی بھی بہتی ہو

تو مجھ کو اس کی گودی میں سلا کر

اس سے کہہ دینا کہ یہ گنگا کا بیٹا آج تیرے حوالے ہے۔

راہی تا زندگی گنگا پر اور اپنی ماں کے بارے میں لکھتے رہے۔ماں کے بارے میں لکھنا بے حد مشکل کام ہوتا ہے۔ماں کو پڑھ پانا اور اس پڑھے ہوئے کو سب کے سامنے لانا بے حدہمت کا کام ہے۔ گنگا کے متعلق کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:

’’گنگا اس نگر(غازی پور)کے سر پر ،گالوں پر ہاتھ پھیرتی رہتی ہے،جیسے کوئی ماں اپنے بیمار بچے کو پیار کر رہی ہو،مگر جب اس محبت کا کوئی جواب نہیں ملتا تو گنگا بلک بلک کر رونے لگتی ہے اور یہ نگر اس کے آنسوؤں میں ڈوب جاتا ہے،لوگ کہتے ہیں کہ باڑھ آ گئی ہے۔ مسلمان اذان دینے لگتے ہیں، ہندو گنگا پر چڑھاوا چڑھانے لگتے ہیں کہ روٹھی ہوئی گنگا میا مان جائے۔اس پر گنگا جھلا جاتی ہے اور قلعے کی دیوار سے اپناسر ٹکرانے لگتی ہے اور اس کے اجلے سفید بال دور دور تک پھیل جاتے ہیں۔ہم انھیںجھاگ کہتے ہیں۔گنگا جب یہ دیکھتی ہے کہ اس کا دکھ کوئی نہیں سمجھتا تو وہ اپنے آنسو جھاڑ ڈالتی ہے۔ تب ہم کہتے ہیں کہ پانی اتر گیا۔مسلمان کہتے ہیں کہ اذان کاوارکبھی خالی نہیں جاتا۔ہندو کہتے ہیں کہ گنگا نے ان کی بھینٹ قبول کر لی اور کوئی یہ نہیں کہتا کہ ماں کے آنسوؤں نے زمین کو اور بھی زرخیز بنا دیا ہے۔دور دور تک زمین میں نم مٹی کا ایک غلاف چڑھ جاتا ہے۔لیکن گنگا بھی کیا کرے؟ڈانگر بیلوں میں ہل کا بوجھ اٹھانے کی طاقت ہی نہیں ہے۔‘‘

گنگا کی ایسی پہچان وہی کر سکتا ہے جس کو گنگا سے روحانی محبت ہو،جس کے لیے گنگا محض ایک ندی ہی نہیں جس کی روح،جس کی پہچان،جس کی ملکیت ہو ۔گنگا راہی کے لیے ایسی ہی تھی۔گنگا کے ساتھ راہی نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کوبھی اپنی ماں کا درجہ دیا ہے۔راہی کو یونیورسٹی کے الیومنی ہونے کا فخر رہا۔یہ سچ ہے کہ تقسیم ہند کے وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی فرقہ واریت کی گندی سیاست کا مرکز تھی۔یہ بھی صحیح ہے کہ محمد ایوب خاں اور لیاقت علی خاں جیسے لوگ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہی الیومنی تھے جو بعد میں پاکستان میں بڑے عہدوں پر قابض ہوئے لیکن راہی اس کے بعدبھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر ناز کرتے رہے کہ اس نے شیخ عبداللہ ،ڈاکٹر ذاکر حسین اور راجا مہیندر پرتاپ سنگھ جیسی شخصیتیں بھی پیدا کیں ،جن کی حب الوطنی تو بے داغ تھی ہی جو فرقہ واریت جیسی گندی سیاست سے آخر تک لڑے۔راہی کہا کرتے تھے کہ ماں آخر ماں ہوتی ہے۔وہ اپنے بچوں کوجنم دیتی ہے اور ان کی اچھی تربیت کرنے کی کوشش کرتی ہے۔اس کے بیٹے کب کیسے ہو جائیں،کس راستے پر چلنے لگیں،وہ کیا کر سکتی ہے؟ان کی نیک نیت پر خوش ہو سکتی ہے اور غلط راہوں پر انھیں چلتا دیکھ کرآنسو بہا سکتی ہے،ان کے لیے دعا مانگ سکتی ہے۔راہی اس کے ان بیٹوں میں تھے جو گمراہ نہیں ہوئے،بھٹکے نہیں۔

دو قومی نظریے کا زہر جب پورے ملک میں پھیلا تو گنگولی کیسے بچ سکتی تھی۔گنگولی بھی تقسیم ہند کی سیاست کی چپیٹ میں آئی۔’’آدھا گاؤں‘‘میں تفصیل سے اس کا ذکر ہے۔راہی دکھی تھے،اداس تھے اور پوری طاقت سے اس وقت بھی فرقہ واریت جیسی گندی سیاست سے لڑ رہے تھے اور جب تک زندہ رہے اس کے خلاف لڑتے رہے۔راہی کی تخلیقات ایک بہت گہرے درد کی داستان ہیں۔وہ زندگی بھر چلا چلا کر کہتے رہے کہ جدید ہندوستان کی تاریخ بے گناہ کے خون سے لکھی جا رہی ہے۔خون کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ۔خون نہ ہندو ہے نہ مسلمان،نہ سکھ ہے نہ عیسائی۔خون صرف ہندوستانی ہے۔ان کی یہ چیخ آب و ہوا میں گونجتی رہی ۔ہندوستان کا خون،ہندوستانیوں کا خون،ہندوستان کی گلیوں میں بہتا رہا۔خون کی تجارت کرنے والے اپنی تجارت کرتے رہے اور آج تک کررہے ہیں۔یہ ماحول ،یہ ذہنیت کسی بھی سچے انسان کو زخمی اور سوچنے پر مجبور کر دے گی۔راہی اس درد کو سینے میں جھیلتے رہے اور بے وقت ہی اس دنیا کو الوداع کہہ گئے۔

سچ کہا جائے تو راہی نے زندگی بھر صرف ایک ہی کتاب لکھی ۔ایک ہی داستان،ایک ہی وضاحتی رنگ اور تیور بدل کر ان کی کتابوں میں آیا ہے اور وہ ہے فرقہ واریت کی مخالفت اور حب الوطنی۔راہی کی پریشانیاں لامحدود تھیں۔ان کی ایک پریشانی اس بات کو لے کر بھی تھی کہ ان کی اپنی گنگولی بھی تیزی سے محدود ہو رہی ہے۔

راہی اکثر اشاروں اور کنایوں میں اپنی بات کہہ جاتے ہیںاور گہرے نسخوں کا سہارا لیتے ہیں۔یہاں بھی ان کا طریقہ یہی ہے۔گنگولی کو لے کر جو ان کا درد ہے وہ محض گنگولی سے ہی نہیں ہے بلکہ پورے ہندوستان کا درد ہے۔ہمیں خود بھی اس بات کا احساس ہے کہ ہندوستان میں ہندو-مسلمانوں کی،سکھ-عیسائیوں کی،پنجابی-بنگالیوں کی، بہاری- آسامیوں وغیرہ کی تعدادتیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن ہندوستانیوں کی آبادی مسلسل گھٹ رہی ہے۔نورالدین کا مزار اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ مزار نورالدین شاہ کا مزار تو ہے ہی ساتھ ہی گنگولی کا مزار بھی ہے۔

آج کی جنگ جسے اپنے وقت میں راہی بھی لڑے تھے ،مکمل ہندوستان کا خواب دیکھنے والوں اور مذہب کی بنا پر بٹے ہوئے ہندوستان کا خواب دیکھنے والوں کے بیچ کی لڑائی ہے۔ضروری ہے کہ گنگولی میں سنیوں،شیعوں اور ہندوؤں کے بجائے گنگولی والوں کی آبادی بڑھے تاکہ نورالدین شہید کی طرح ان شہیدوں کو بھی اپنے مزار میں سکون مل سکے جو مکمل ہندوستان کے خواب کو لے کر ہی آزادی کی لڑائی میں شریک اور شہید ہوئے تھے۔تقسیم ہند کے بعد پورا ملک فرقہ واریت کی آگ میں جھلس رہا تھا۔آزادی کی صبح نفرت،اداسی اور دنگوں کو ساتھ لے کر آئی تھی۔برسوں سے ساتھ رہے دوستوں کا نظریہ بھی ہندو۔مسلمان بن گیا تھا۔ رشتے مذہب کی بنیاد پر رکھے جانے لگے۔ایسے ماحول میں دوستوں کے بیچ بھی ایک لکیر کھنچ گئی تھی اور خود میں ہو رہی تبدیلی کا احساس کر کے لوگ خود بھی حیران و پریشان ہو رہے تھے۔ناول ’’ٹوپی شکلا‘‘میں عفن اورٹوپی شکلا دونوں آپس میں خاص دوست ہیں۔تقسیم ہند کے بعدان دونوںدوستوں کے دل میں پیدا ہوئے خیالات انھیں حیران کر رہے تھے۔عدم تحفظ کی وجہ سے پیدا ہوا خوف عفّن کو چونکا رہا تھااور مذہب کے نام پر اندر جنم لینے والی نفرت سے ٹوپی شکلا خود جھنجھلا رہا تھا۔ان دونوں کرداروں کے اندر چل رہی اتھل پتھل ظاہر ہوتی نظر آتی ہے۔’’ٹوپی شکلا‘‘میں راہی نے اسے اس طرح پیش کیا ہے...

’’عفن پہلی بار اپنے ڈر پر شک کر رہا تھا اور ٹوپی پہلی بار اپنی نفرت پر جھنجھلا رہا تھا۔دوستی جھوٹی ہے یا ڈر؟دوستی جھوٹی ہے یا نفرت؟‘‘

دونوں ہی پارٹی دہشت زدہ ہیں۔ عجیب سی نا امیدی چھائی ہوئی ہے۔ایک طرف فرقہ پرستی تو دوسری طرف ملک سے جڑا ہوا یقین سامنے آ رہا تھا۔تقسیم ہند کے بعد اپنوں کے بٹ جانے اور مذہب کی بنیاد پر ملک ہونے کی وجہ سے مسلمانوں میں پاکستان سے لگاؤ نے ان کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا۔’ٹوپی شکلا‘کا ہی ہندو کردار ایک طرف مسلمان لڑکی سے محبت کرتا ہے،دوسری طرف اپنا نظریہ ظاہر کرتا ہے :

’’مسلمان لڑکی سے عشق کر رہا ہوں اس لیے جل رہے ہو۔تم سب مسلمان کھال کے نیچے پاکستانی ہو۔‘‘

 (ٹوپی شکلا ،ص:۱۵۴)

وہیں ایک جگہ دوسرا کردار سوال کرتا ہے :

’’ابو کیا یہ ہندو بہت خراب ہوتے ہیں؟‘‘ایک دن اس نے اپنے ابو سے پوچھا۔’’اور یہ سکھ تو بہت ہی ذلیل معلوم ہوتے ہیں۔‘‘   (ٹوپی شکلا ،ص:۴۹)

تقسیم ہند کا فیصلہ کسی ایک فرقے کے ذریعے لیا گیا فیصلہ نہیں تھاتقسیم کے پیچھے ایک طرف انگریزی حکومت کی ہندوستان کو کمزور کرنے کی سازش تھی تو دوسری طرف سیاست دانوں کواعلی عہدہ حاصل کرنے کا لالچ تھا جس کا برا اثر تقسیم ہند کی شکل میں ہمارے سامنے آیااور تقسیم کا درد اور اس کے ساتھ پیدا ہوئی تباہی میں عوام کو مبتلا ہونا پڑا۔ہندوستان کے مسلمانوں کے حالات اپنے ہی ملک میںبے حد افسوس ناک ہو گئے تھے۔ایک طرف مسلم سیاست دانوں کی پاکستان کی مانگ نے ہندوستانی مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوالیہ نشان لگا دیا تھا،دوسری طرف ملک میں پھیلی فرقہ واریت کی آگ نے اور اپنوں سے جدا ہونے کے درد نے انھیں پریشان کر دیا تھا۔ویسے بھی عام ہندوستانی مسلمان ملک کے بٹوارے کے لیے راضی نہ تھے۔

پاکستان اسلامی ملک ہے اس لیے بعض ہندوستانی مسلمانوں میں اس کے لیے ہمدردی تو ہے لیکن اپنے ملک سے محبت بھی کم نہیں ہے۔ناول ’’ٹوپی شکلا ‘‘میں راہی معصوم رضا نے پاکستان جانے کے خلاف بیان کو دلیل کے ذریعے پیش کرنے کی اس طرح کوشش کی ہے۔

’’نہیں!میں پاکستان کیسے جا سکتا ہوں۔محرم میں امام حسین ہندوستان آتے ہیں۔اس سال ان سے ملاقات کرکے پوچھوںگا کہ سچ بولنے کی سزا آدمی کو کب تک ملتی رہے گی۔‘‘(ٹوپی شکلا،ص:۱۳۰)

ہندوستانی سماج تو پہلے سے ہی مختلف فرقوں میں بٹاہوا ہے اور مذہب کے نام پر ہندوستانی خاص طور سے حساس ہیں۔خاص طور سے مذہب کو لے کر دونوں کے بیچ گہری کھائی ہے۔کسی ایک فرقے کی لڑکی کی عزت اس کے لیے چیلنج بن جاتی ہے۔مذہب کے وقار کو قائم رکھنے کے لیے اس طرح کے معاملوں میں کوئی چھوٹ نہیں دی جاتی۔وہ ذات اور مذہب کے دفاع کے لیے اپنی اولاد کی قربانی بھی کر سکتا ہے۔ناول ’’ٹوپی شکلا ‘‘میںراہی نے مذہب کو لے کر روایتی نقطۂ نظر رکھنے والے کردار’ واحد ‘کے ذریعہ ایسے ہی عملی سچ کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔واحد کہتا ہے :

’’سالے کسی بھی مسلمان لڑکی پر ترچھی نظر ڈالی تو ٹانگیں چیر کر پھینک دوںگا۔‘‘  (ٹوپی شکلا،ص:۱۴۲)

راہی معصوم رضا کے جتنے بھی ناول ہیں ان میں اصل ہندوستان کی روح فکر موجود ہے۔ آدھا گاؤں،ٹوپی شکلا، اوس کی بوند،سین۷۵،کٹرہ بی آرزو،ہمت جونپوری،دل ایک سادہ کاغذ وغیرہ جیسے تخلیقی ادب میں ٹوٹتے بکھرتے گھر کو بچانے کی آواز موجود ہے۔اپنی جڑوں کی تلاش میں راہی کی تخلیقی بے چینی دیکھی جا سکتی ہے۔ایسی حالت میں ان کے ناول میں تکرار ہونا قدرتی ہے۔گنگولی ان کا گھر ہے،غازی پور ان کا گھر ہے اور پورا ہندوستان ان کا گھر ہے۔راہی اپنے گاؤں سے چل کر بینالاقوامی سطح پرہندوستان کی تلاش کرتے ہیں۔راہی کی تخلیق ’’اوس کی بوند‘‘۱۹۷۰ء میں منظر عام پر آئی۔راہی معصوم رضا نے ـ’’آدھا گاؤں‘‘ اپنے پورے دوست کنور پال سنگھ کے نام کیا ہے ۔ان کے دوستوں نے غازی پور کو بنیاد بنا کر ایک ناول لکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ویسے بھی راہی کی شاعری میں غازی پور بار بار دستک دیتا ہے۔ انھیں یہ مشورہ اچھا لگا اور پھر آدھا گاؤں کی شروعات ہو گئی۔راہی اس وقت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں لیکچرر ہو چکے تھے اور ساتھ ہی ساتھ ایک شاعر کے طور پر بھی قائم ہو چکے تھے۔’’چھوٹے آدمی کی بڑی کہانی‘‘عنوان سے پرم ویر عبدالحمید کی سوانح کے ساتھ ساتھ اردو میں ان کے سات شعری مجموعے منظر عام پہ آ چکے تھے جن میں ’’ نیا سال موج گل :موج صبا،رقص مہ اور اجنبی شہر:اجنبی راستے‘‘خاص ہیں۔ترقی پسند مصنفین کے رکن کافی پہلے سے تھے۔علی گڑھ میں انھوں نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر سنگم نام سے ایک تنظیم بنائی تھی جس کے ذریعے اردو اور ہندی ادب کے پروگرام منعقد ہوتے تھے۔ عمر کا پچہترواں سال راہی کو نصیب نہیں ہوا لیکن سوال اس بات کو لے کر پریشان ہونے کا نہیں ہے۔سوال اس بات کو لے کر فخر کرنے کا ہے کہ عمر کے جتنے سال راہی کو ملے انھوں نے اپنے ضمیر کو بچائے رکھا اور اپنے اصول پر قائم رہتے ہوئے زندگی گزاری۔جس لڑائی میں وہ شریک رہے وہ ابھی ختم نہیں ہوئی ہے،چل رہی ہے:

’’ہم خون جگر لےکر بازار میں آئے ہیں

کیا دام لگائنگے لفظوں کی دوکاں والے‘‘

.....

شعبۂ اردو،حلیم مسلم پی جی کالج کانپور 208001

موبائل: 9415280915

شمس الرحمن فاروقی کے افسانوں کا تنقیدی تجزیہ

شمس الرحمن فاروقی کے افسانوں کا تنقیدی تجزیہ

ڈاکٹر محمد اکبر

 


شمس الرحمن فاروقی ایک ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے۔انھیں صرف نقاد کے زمرے میں رکھنا مناسب نہیں۔ وہ ایک بڑے نقاد ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین تخلیق کار بھی تھے ۔انھیں ادبی تاریخ سے بہت گہرا شغف تھا اور اس تاریخ کو اپنے وسیع مطالعے کے پس منظر میں دیکھنا جانتے تھے۔کلیم الدین احمد، ڈاکٹر شکیل الرحمن اور ڈاکٹر گیان چند جین کی طرح ان کا ایک اہم کام داستانوں کا مطالعہ رہا ہے۔ویسے تو وہ اردو کی ادبی دنیا میں شعر و نقد کے ذریعے داخل ہوئے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے شعر و نقد میں بطور خاص تنقید میں وہ کمال حاصل کیا کہ انھیںایک بڑا نقادتسلیم کیا جانے لگا۔بقول محمد حسن عسکری لوگ حالی کے بعدان کا نام لینے لگے۔ اگرچہ انھوںنے شعر و نقدکو اختیار کیا لیکن افسانہ نگاری سے ان کا شغف بر قرار رہا۔شمس الرحمن فاروقی کے لیے افسانہ نگاری کوئی نیا تجربہ نہیں تھا۔ اپنے طالب علمی ہی کے زمانے سے وہ افسانہ لکھتے رہے تھے ۔انھوں نے گلستاں کے نام سے ایک قلمی رسالے کی ترتیب و اشاعت شروع کی۔ اس میں زیادہ تر انہی کے قلم سے لکھے ہوئے مضمون اور افسانے ہوتے تھے۔ کبھی کبھی کسی رسالے یا اخبار سے کوئی کارٹون یا تصویر بھی شامل کرلیتےتھے اس طرح اس کی اشاعت ہوجاتی تھی۔ گلستاں کا آخری شمارہ اس وقت منظر عام پر آیا جب وہ دسویں کے طالب علم تھے۔اس کے بعد وہ دیگر اخباروں اور رسالوں کے لیے مضامین اور افسانے لکھنے لگے۔ ۱۹۴۸ءیا ۱۹۴۹ءمیں ان کا پہلا افسانہ شائع ہواتھاجس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔لہٰذا اس سلسلے میں وہ خود لکھتے ہیں :

’’میرا پہلا افسانہ شاید ۱۹۴۸ء؍۱۹۴۹ءمیں چھپا یعنی جس سال میں ہائی اسکول کا طالب علم تھا،اب نہ افسانے کا نام یاد ہے نہ اس پرچے کا،لیکن ہائی اسکول کے زمانے سے میں چار چھ مہینے میں ایک آدھ ٹوٹا پھوٹا افسانہ چھپوالینے میں کامیاب ہونے لگا تھا۔‘‘

(سوار اور دوسرے افسانے ،شب خون کتاب گھر۔

الہ آباد، ص:۱۳سنہ اشاعت ۲۰۰۳ء)

فاروقی صاحب جب انٹرمیڈیٹ میں تھے تو انھوں نے ایک ناولٹ ’’دلدل سے باہر‘‘ لکھا تھا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ طویل افسانہ ہی رہا ہو۔انھوں نے لکھا کہ یہ افسانہ ۱۹۵۰ء ؍۱۹۵۱ءمیں معیار میرٹھ کے چار شماروں میں قسط وارشائع ہوا۔اس کے بعد انھوں نے سوویت روس میں مذہب پراستبداد کو دیکھتے ہوئے ایک افسانہ ’’سرخ آدھی‘‘ لکھا۔اس افسانے کا انگریزی میں ترجمہ بھی کیا جو الٰہ آباد یونیورسٹی کے میگزین میں شائع ہوا تھا۔بقول شمس الرحمن فاروقی میرے پاس افسانے کا نہ اردو مسودہ ہے نہ انگریزی اور نہ ہی الہ آباد یونیورسٹی میگزین کا وہ شمارہ جس میں وہ افسانہ چھپا تھا۔شمس الرحمن فاروقی نے شب خون رسالے کو جب نکالنا شروع کیا تو انھوں نے اپنے کئی افسانوں کے تراجم اور بہت سے افسانے انگریزی سے ترجمہ کر کے جاوید جمیل کے قلمی نام سے شائع کیے اور کئی طبع زاد افسانے بھی اسی نام سے لکھ کر شائع کروائے جس کے ضمن میں وہ خود تحریر کرتے ہیں:

’’شب خون کا پہلا شمارہ بابت ماہ جون ۱۹۶۶ءمیں شائع کردیا۔یہ مئی ۱۹۶۶ء وسط تھا۔پہلے ہی شمارے میں کئی چیزیں میں نے ایسی شامل کیں جو لکھی تو میں نے ہی تھیںلیکن ان پر نام کچھ اور لکھا تھا۔ان میں ایک نام شہزاد بھی تھا جسے ایک بھیانک افسانے (Terror Story)کے مترجم اور بھیانک افسانے پر ایک تنقیدی نوٹ کے مصنف کی حیثیت سے پیش کیا گیا تھا۔ ’’شہزاد‘‘ کے بہت سے تراجم شب خون میں شائع اور مقبول ہوئے۔پھر ایک آدھ طبع زاد افسانہ میں جاوید کے نام سے شب خون ہی میں لکھا۔گویا افسانہ نگار بننے کا موقع مجھے دوبارہ ہاتھ آیاتھا،لیکن پھر بھی معاملہ زیادہ ترافسانوں اور ڈراموں کے تراجم تک محدود رہا۔دو چار برس میں تنقید اور تبصرہ نے مجھے اس درجہ اپنا بنا لیا کہ افسانہ نگاری میری سوتیلی اولاد بھی نہ رہی۔‘‘

(دیباچہ سواراور دوسرے افسانے ،ص:۱۹)

شمس الرحمن فاروقی اپنے ادبی سفر کی ابتدا ہی سے افسانے لکھتے آرہے ہیں۔ شب خون میں بھی وقتاً فوقتاً نام تبدیل کر کے شائع ہوتے رہے مگر ترجمہ اور تنقید سے شغف اس قدر بڑھا کہ وہ افسانہ نگاری کی طر ف زیادہ دیر مائل نہ رہ سکے یعنی بالکل ہی ترک کردیا۔ان کے اندر کے افسانہ نگار نے انھیں چین سے بیٹھنے نہ دیا۔ ایک مدت کے بعد وہ پھر افسانہ نگاری کی طرف رجوع ہوئے لیکن اس بارپھر انھوں نے ایک فرضی نام کا سہارا لیا۔ شب خون میں بینی مادھورسواکے نام سے فاروقی کاایک بیانیہ افسانہ ’’غالب افسانہ‘‘ شمارہ ۲۲۰شب خون میں شائع ہواتو اہل قلم اور اہل دانش حضرات نے فاروقی کو پہچاننے میں دیر نہیں کی۔اس افسانے نے اپنے طرز بیان، منفرد اسلوب اور موضوع کے اچھوتے پن کی وجہ سے ادبی دنیا میں ہلچل مچادی۔ فکشن میں انھیں ایک مقام عطا کیا وہ اپنا نام تبدیل کر کے سامنے آئے اور غالب افسانے کے ساتھ اردو افسانے پر غالب ہوگئے۔اس افسانے میں شمس الرحمن فاروقی غالب کے لیے ابن مریم ہوگئے ہیں۔ انھوںنے غالب کی شخصیت کو فنکارانہ خوبی وخوش اسلوبی سے پیش کیا ہے کہ گویا ان کے بدن میں دوبارہ روح پھونک کر ہمارے سامنے آگیا ہے، ویسی ہی وضع قطع ،وہی خد و خال، وہی شوخی وظرافت جسے دیکھ کر ہر شخص عش عش کر اٹھتا ہے۔ ابھی قارئین اس افسانے کے سحر سے باہر بھی نہیں نکل پائے تھے کہ شمس الرحمن فاروقی نے عمر شیخ مرزا کے نام سے لاہور کا ایک واقعہ اور سوار لکھ کر اپنے قارئین کو اس دنیا تک پہنچا دیاجہاں صرف تخیل کے ذریعہ ہی پہنچا جاسکتا تھا۔’’آفتاب زمین‘‘ اور’’ ان صحبتوں میں آخر ‘‘نے ان کی شہرت میں چار چاند لگا دیے۔ شب خون میں شامل ان پانچ افسانوں کا مجموعہ’’سوار اور دوسرے افسانے‘‘ کے عنوان سے کراچی پاکستان سے ۲۰۰۱ء میں شائع ہوا تھا۔مجموعے میں شامل پانچوں افسانوں کی ترتیب کچھ یوں ہے:۔

1۔            غالب افسانہ

2۔            سوار

3۔            ان صحبتوں میں آخر

4۔            افتاب زمین

5۔            لاہور کا ایک واقعہ

شمس الرحمن فاروقی نے اپنی اس کتاب کا انتساب فکشن کے تین اہم نقادوں اور اپنے عزیز دوستوں کے نام کیا ہے ان میں عابد سہیل ،وارث علوی اور وہاب اشرفی ہیں۔ شروع میں فاروقی کا تفصیلی دیباچہ جس کے ذریعہ افسانوں اور افسانہ نگاروں کے امور پر بہت سے ایسے پردے اٹھائے ہیں کہ جن کی مدد سے ان افسانوں کو بہتر طریقے سے سمجھا جا سکتا ہے۔داستانوی اسلوب کے باوجودبھی مافوق الفطرت عناصر کا شائبہ تک نہیں ہے۔ان کے افسانے مشرقی افکار سے مرعوب نظر آتے ہیں ،بلکہ شمس الرحمن فاروقی کو مشرقی تہذیب و ثقافت پر فخر محسوس ہوتا ہے۔

شمس الرحمن فاروقی کے افسانوں کا شمار تاریخی فکشن میں ہوتا ہے انھوں نے تاریخ و تہذیب کی معلومات کو کہانی کے رنگ میں ڈھال کر اکٹھا کردیا ہے۔درحقیقت فاروقی یہی چاہتے تھے کہ ہماری قدیم ادبی تہذیب کی تاریخ کو جامعیت کے ساتھ فکشن کے بیانیہ میں سمویا جائے۔وہ اپنے اس مقصدمیں کامیاب نظر آتے ہیں ۔ان کا ہر افسانہ زندگی کا ایک پہلو ،ایک رخ کی تصویر کشی کرتا ہے اسی تناظر میں شمس الرحمن فاروقی ادبی تہذیب و تاریخ کو بیان کر جاتے ہیں ۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے افسانوں کی طوالت میں کہانی کا دخل نہیں بلکہ مقصد کے تحت ادبی تہذیب و تاریخ کا بیان ہے جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فکشن کے بیانیہ کو افسانے کی صنف میں شامل کرنے کا ان کا فیصلہ بالکل صحیح ہے کیوں کہ فاروقی ایک لمبے عرصے سے اردو کی قدیم تاریخ و تہذیب پر کام کر رہے تھے، اس لیے انھیں اس بات کا شدت سے احساس تھاکہ ہماری ادبی تہذیب ہمارے ذہن اور علم سے غائب ہوتی جارہی ہے جن تہذیبوں کا ماضی نہیں ان کا مستقبل بھی نہیں۔ ’’غالب افسانہ‘‘ کو تخلیق کرتے وقت انھوںنے ہماری ادبی تاریخ و تہذیب کے ان تمام اجزا کو افسانے میں سمیٹ لیاجو ہماری تہذیب کا ایک خاص حصہ ہیں ۔ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی ادبی فضا کو افسانے میں زندہ کردیا ہے جو ہمارے ذہنوں سے محو ہوتی جارہی تھی جس کا خود شمس الرحمن فاروقی نے اپنے افسانوی مجموعے کے دیباچہ میں اعتراف کیا ہے۔

شمس الرحمن فاروقی کا ’’غالب افسانہ‘‘یہ ان کا علمی نچوڑ ہے جو باتیں ہمیں تذکروں اور تاریخوں میں یا پھر دوسری کتابوں میںملتی ہیں، ان سے مکمل طور پراستفادہ کیا گیا ہے ،یہ افسانہ اس وقت منظر عام پر آیا تھاجس وقت ہندوستان کے مسلمان بابری مسجد کی شہادت کے نتیجے میں ہونے والے ہنگاموں سے نبردآزما تھے ،اس افسانے میں ہندوستان کی سیاست کے ساتھ ساتھ قومی یکجہتی یعنی ہندو مسلم یکجہتی کو بھی اجاگر کیا گیا ہے ۔افسانے کا مر کزی کردار غالب ایک مسلمان ہے اس کے برعکس کہانی کا راوی بینی مادھو رسوا ایک ہندو جو مشترکہ تہذیب و ثقافت کی علامت ہے۔پہلی جنگ آزادی ۱۸۵۷ ءکی ناکامی کے بعد دہلی کے اجڑنے اور برباد ہونے کا ذکر بیشتر کتابوں میں پڑھتے آئے ہیں مگر فاروقی نے جس فنکارانہ اور خوش اسلوبی کے انداز میں دہلی کی کھنڈر زدہ عمارتوں کا تذکرہ کیا ہے وہ قابل تحسین ہے ۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ میر و غالب کے اشعار کی شرح کر رہے ہیں دہلی کے اجڑنے کانقشہ کچھ یوں پیش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں :

’’میاں صاحب رستہ اب کسے سجھائی دے ہے اور سجھائی بھی دے ہے تو کسے ؟مسجد سے راج گھاٹ تک اب لق و دق صحرا ہے اینٹوں کی ڈھیر ہیں اور ان کے اندر سانپ بچھو کے مسکن۔ مرزاگوہر صاحب عالم کے باغ کی سمت کئی بانس نشیب تھااب وہ باغیچے کی چاندنی کے برابر ہوگیا۔ آہنی سڑک کے واسطے کشمیری دروازے سے لے کر کابلی دروازے تک میدان ہی میدان ہے ۔پرانی گلیاں لوگوں سے اٹی پڑی ہیں ،راستے کھو گئے ہیں۔اگلاجائے تو کہاں جائے پنجابی کٹرا ،دھول واڑا ، سعادت خان کا کٹرا ،یہ اور اس طرح کے کتنے محلے مٹ گئے ،گلیوں کی شکلیں بدل گئیں ۔میاں صاحب اب یہ دلی نہیں ،ایک کیمپ ہے، بیرک ہے، اجاڑ گھروں کا جنگل ہے۔‘‘

(سواراور دوسرے افسانے ،ص:۴۴)

غالب افسانے کا مطالعہ کرنے کے بعدیہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک جانب ہندوستان کی مٹتی ہوئی تہذیب کاعکس ہے تو دوسری جانب انگریزوں کے ساتھ آنے والی مغربی تہذیب کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔ایسے مشکل حالات میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کو باقی رکھنا نا ممکن ہوگیا تھاایسے حالات میں پھر بھی مشترکہ تہذیب برقرار رہی ۔فاروقی نے مذہبی رواداری کوپیش کرتے ہوئے ایک جگہ مرزا غالب کی وفات پر فاتحہ خوانی کا تذکرہ کچھ اس طرح کیا ہے:

’’مرزا صاحب کے گزرنے کی خبر سے کئی دنوں تک میری سمجھ میں نہ آتا تھاکہ ان کا تعزیہ کیسے دوں۔ آخر دادا میاں کی درگاہ پر پانچ سیر شیرینی اور پانچ سیر شیر مالیں فاتحہ کرائیں اور تقسیم کر دیں گھر آکر مرزا صاحب کی یاد گار تحریر کو آنکھوں سے لگا کر دو آنسورولیا۔‘‘

(سواراور دوسرے افسانے ،ص:۶۱)

قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس افسانے میں صرف غالب نہیں ہیں وہ تو کچھ دیر اپنا جادو جگا کر غائب ہوجاتے ہیں۔ ابتدا تا انتہا قاری کو بینی مادھو رسوا کے ساتھ ساتھ سفر کرنا پڑتا ہے۔غالب سے بینی مادھوکی ملاقات افسانے میں جان ڈال دیتی ہے اور یہی نقطۂ عروج بھی ہے۔شعر اور علم شعر، ہندوستانی فارسی گو شعرا پر غالب اور بینی مادھو رسوا کے درمیان مباحثے نے افسانے میں جان ڈال دی ہے۔فاروقی نے افسانے کے نقطۂ عروج اور اختتام کے دوران غالب کے بارے میں جو معلومات قلم بند کی ہیں وہ افسانے کا نچوڑ ہیں۔ گنگا جمنی تہذیب جو مغلوں کی سر پرستی میں اپنے عروج کو پہنچی تھی، غالب افسانے میں اس تہذیب کے زوال کی ابتدا نظر آتی ہے۔مغرب زدگی کی وجہ سے مشترکہ تہذیب کے بارے میں غالب کی پیش گوئی سچ نظر آتی ہے کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے ۔فاروقی کے افسانے میں اس پیش گوئی کو مد نظر رکھا گیاہے۔ واقعات کے بیان میں یہ پیش گوئی واضح طور پر نظر آتی ہے۔افسانے میں فاروقی نے عہد غالب ،ان کی شخصیت اور فکر و فن کو فکشن کے پیرائے میں کلاسیکی زبان و بیان کے ذریعہ قارئین کو غالب کے ساتھ ہم مشربی کا شرف بخشا ہے، بلکہ غالب کی شاعرانہ عظمت اور ندرت فکر اور جودتِ طبع کو ایک نرالے انداز میں خراج عقیدت پیش کیا ہے۔ ہر لحاظ سے ان کا یہ کارنامہ قابل تحسین ہے۔

شمس الرحمن فاروقی کے افسانوی مجموعے کا دوسرا افسانہ ’’سوار‘‘ ہے۔ اس میں انھوں نے اپنے عمیق مطالعے، ادبی تاریخ سے اپنی واقفیت، داستانوں سے گہری انسیت، بیان کے جادو اور تخلیقی جوہر کے اجتماع سے ایسا افسانہ تخلیق کیا ہے کہ اہل دانش نے اسی بنا پرفاروقی کو افسانے کے میدان کا شہسوار مانا ہے ۔مذکورہ بالا افسانے کے متعلق حنیف فوق کی رائے بالکل درست ہے:

’’سوار میں شمس الرحمن فاروقی نے قصے کی دل کشی، بیان کی دل آویزی اور کرداری مرقعوں کی جاذبیت کا کمال دکھایا ہے۔اس لحاظ سے ’’سوار‘‘ایک ایسا افسانہ بن گیا ہے جسے اردو افسانے میں اہم اضافہ کہا جاسکتا ہے۔‘‘

(روشنائی جلد چہارم ۔شمارہ ۱۴ جولائی تا ستمبر ۲۰۰۳ء، ص:۱۴۱ )

یہ افسانہ بھی دلی کی ادبی تہذیبی فضا پر مشتمل ہے۔ اس کا تانا بانا اس وقت بنا گیاہے جب مغلیہ سلطنت کمزور ہوچکی تھی لیکن اس کے باوجود ادبی محفلوں میں سرور باقی تھا۔باربار کے حملوں نے دلی کو سیاسی طورپر ضرور کمزور کردیا تھا،لیکن دلی پھر بھی شعر و سخن کی آماجگاہ تھی۔ فاروقی کودلی شہر سے عشق تھا اس کا حق ادا کرنے کے لیے انھوں نے یہ افسانہ لکھا۔بقول فاروقی:

’’میں اس دلی کا دلدادہ تھاکیوں کہ اردو کی ادبی تہذیب صحیح معنی میں اپنا رنگ اور طور طریق محمد شاہ اور احمد شاہ اور پھر شاہ عالم ثانی کے زمانے میں حاصل کرتی ہے۔ سیاسی قوت اس شہر کی بھلے ہی گھٹ گئی ہو لیکن اس کی تہذیب زوال آمادہ اور انحطاط آلودہ نہ تھی۔ دس بار لٹنے کے بعد بھی اس شہر کی گلیوں میں بہروپیے نہیںبلکہ اس زمانے کی حسین ترین رقاصائیں ناچتی پھرتی تھیں ۔‘‘

(سوار اور دوسرے افسانے،ص:۲۷ )

سوار میںشہر دلی کی تہذیب اپنے پورے حسن و جمال کے ساتھ جلوہ افروز ہے ۔شمس الرحمن فاروقی نے اپنے ادبی سفر میں تنقیدی مضامین میں جن خیالات و تصورات کی بنا پر جدیدیت کی علم برداری کی تھی، ان خیالات و تصورات سے فاروقی کی یہ شاہکار تخلیق پوری طرح متاثر نظر آتی ہے۔افسانہ ابتدا تا انتہا جس محور پر گھومتا ہے وہ یہی تصورات ہیں۔ ایک شخص (خیرالدین ) کی ذہنی الجھن، اس کی پریشانیاں ،اس کی کشمکش اور اس سے متاثر ہوتی ہوئی اس کی شخصیت کو پیش کیا گیا ہے۔شمس الرحمن فاروقی نے داستانوی انداز میں بڑے سلیقے اور خوبی سے بیان کا جادو جگایا ہے جس کی وجہ سے ان کے افسانوی بیان کو نئی جاذبیت ملتی ہے۔فکشن نگار نےاپنے افسانے میں شہسوار کی آمد کا سماں کچھ یوں باندھا ہے:

’’سورج دھیرے دھیرے کرکے سارا چھپ گیا تھااور ہر چیز پر شام کا سا رنگ آگیا تھا،سب طیور درختوں میں منقار زیر پر تھے۔بازار کے کتے چپ لیٹ گئے تھے۔انھوں نے ہانپنا بھی بند کردیا تھا،پیڑوں پر پتیاں اور شاخیں سیاہی مائل ہوگئی تھیں ۔سب لوگ گھروں میں چھپے بیٹھے تھے یا محو دعا تھے یا سیاہ کپڑا آنکھ پر رکھ کر گرہن کو دیکھ رہے تھے ۔یہ شام، کسوف کی شام نہ تھی لیکن منظر وہی تھا بجز اس کے آج لوگ گھروں کے اندر نہیں بلکہ باہر تھے۔‘‘

(سوار،ص:۷۵-۷۶)

سوار افسانے میں علامتی انداز بیان اپنایا گیا ہے اور شاعری کے لیے سوار کی علامت استعمال کی گئی ہے جو دہلی کے گلی کوچوں، خانقاہوں، بازاروں اور درباروں میں پرورش پاتی ہے۔ہر شخص اس کا شیدائی ہے۔اسے پانا چاہتا ہے ۔فاروقی یہ بھی دکھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر شخص کو بلا تفریق مذہب اس کی کشش اس کو اپنی طرف مائل کر رہی ہے اور ہر آدمی اسے اپنے اپنے انداز میں دیکھ رہا ہے،محسوس کررہا ہے۔مثلاً خیرالدین کی بہن کو وہ ایک نقاب پوش خاتون کی شکل میں نظر آتی ہے۔خود خیرالدین کو ایک سیاہ سواری پر سوار مرد نظر آتا ہے اور حجن بی بی کو وہ رضیہ سلطانہ محسوس ہوتی ہے،مسجد میں ایک بزرگ کو ایک سانڈنی سوار تھا۔یہ افسانہ دہلی کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے اور کہانی کا بیانیہ کہیں بھی متاثر نہیں ہوتاہے۔شمس الرحمن فاروقی ماجرا نگاری، جزئیات نگاری، مرقع کشی اور سراپا کو جب بیان کرتے ہیں تو وہ چھوٹی چھوٹی چیزوں کو بھی نظر انداز نہیں کرتے۔

’’ان صحبتوںمیںآخر‘‘بھی شمس الرحمن فاروقی کا ایسا افسانہ ہے جو تاریخ اور تہذیب کے نشانات سے معمور ہے۔ ہندوستانی حدود سے باہر نکل کر ایشیا کے دوسرے علاقوں تک پھیلا ہوا ہے اس میں لبیبہ خانم یہود النسل بلقانی دوشیزہ کی المناک داستان ہے ۔دراصل یہ افسانہ دوسرے افسانوں سے تھوڑا مختلف ہے اگر چہ اس میں مشرقی اقدار کو دکھایا گیا ہے، لیکن جو چیز اسے دوسرے افسانوں سے منفرد کرتی ہیں وہ یہ کہ شمس الرحمن فاروقی نے اس میں ایک تنہا عورت کی زندگی کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔تانیثی نقطۂ نظر سے افسانہ تانیثیت سے پوری طرح متاثر نظر آتا ہے ۔لبیبہ خانم امرائوجان ادا کی طرح عورتوں کے بازار میں فروخت ہوئی فرق صرف اتنا تھا کہ امرائوجان ادا اپنے باپ کے ظلم کی شکار بنی اور لبیبہ خانم خود اپنے باپ کے کارناموں کا۔فاروقی صاحب نے لبیبہ خانم کے اس رخ کو اجاگر کرنے میں کسی طنزیہ اخلاقی پہلو کو شامل نہیں کیا اور نہ ہی مرزاہادی رسوا کی طرح لبیبہ خانم کی زبانی اس کی دلربائی کے قصے سنائے ۔لبیبہ کے تعلق سے فاروقی لکھتے ہیں :

’’ لبیبہ خانم نے کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا ،ایسی دھوم دھام کی معشوقی کسی نے کاہے کی کی ہوگی ،حسن پرستوں ،عاشق مزاجوں میںکوئی ایسا نہ تھا جس نے اس سے توقع نہ باندھی ہواور جس کی توقع پوری ہوئی ہولبیبہ خانم نے وہ سارے انداز دلربائی وہ سارے طرز ستم آرائی از خود حاصل کر لیے تھے جن کے لیے دوسری حسینوں کو مشق کرنی پڑتی ہے۔‘‘

(سوار اور دوسرے افسانے ،ص:۱۲۱)

لبیبہ خانم کو اپنی ذات اور اس کے امکانات کا بخوبی علم تھا مرد معاشرے میں اپنے وجود کی اہمیت کو برقرار رکھنے کاانداز بھی اس نے سیکھ لیا تھا،اس افسانے میں میر بھی ایک جھلملاتے تارے کی طرح ابھرتے ہیں اور افسانے کے اختتام پر چاند کے مانند سارے افسانے پر چھا جاتے ہیں ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ یہ پورا افسانہ تین اہم نکات پر گھومتا ہوا نظر آتا ہے۔پہلا نکتہ یہ ہے کہ متن کے اندر انسانی برتائواور جذباتی ردعمل کے مختلف النوع نمونے نظر آتے ہیں جس میں غم خوشی، احساس محرومی، خودداری کے جذبات ملے ہوئے ہیں، جس کی نمائندگی لبیبہ خانم ،میر بایزید، کشن چند اخلاص جیسے کردار کرتے ہیں ۔غم و غصہ اپنے وجود کے خالق سے کبھی معذرت سے محبت میں رسوا ہونے کی خواہش بھی اور عشق میں ملنے والے غم و تنہائی کا ڈر آپس میں دست وگریباں ہوتے ہیںتو ان ملے جلے جذبات کی ایک مجموعی تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے وہ تصویر نورالسعادت کی ہے اور یہ وہ تصویر ہے ،جسے نمایاں کرنے کے لیے شمس الرحمن فاروقی نے نہایت باریک بینی سے کام لیا ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ ان کی انسانی نفسیات اور جذباتی پیچیدگیوں پر گہری نظر ہے۔

دوسرا اہم نکتہ میر کی تنک مزاجی ،شرافت، خوداری، انانیت پسندی جوان کی پر وقار شخصیت کی نمائندگی کرتی ہے۔اس کے علاوہ میر کی ذاتی زندگی کے پیچ وخم یعنی بے روزگاری میر پر بے خودی کا عالم طاری ہونا اور اس بے خودی کے عالم میں چاندنی رات کوکسی پیکر خوش صورت کمال کا میر کے پاس آنااور اس سے فیض یاب ہونا وغیرہ۔ ان تمام باتوں کاذکر میر نے اپنی آپ بیتی میں کیا ہے جسے فاروقی نے افسانوی پیکرعطاکیا ہے۔

تیسرا نکتہ میر کے عہد کی ادبی تہذیب و تمدن ،تاریخ، ادبی محفلوں میں شاعری اور زبان کے تعلق سے ہونے والی بحث ہے جس کے لیے مشاعرے کا اہتمام کیا ہے۔ اس کے علاوہ لبیبہ خانم اور کشن چند اخلاص کے درمیان شاعری کے متعلق تحقیقی وعلمی گفتگو ہے، جس سے لبیبہ خانم کی شعر وشاعری کے متعلق علمی استعداد کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔فاروقی کا اصل مقصد اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی ادبی تہذیب سے روشناس کرانا ہے۔ان کا یہ افسانہ تاریخ بینی اور تحقیق کا حسین مرقع ہے۔

’’آفتاب زمیں ‘‘ اس مجموعے کا ایک اہم افسانہ ہے۔ جس کا نام مصحفی ؔ کے اس شعر سے لیا گیا ہے:

آفتاب زمیں میں ہوں میں لیکن

مجھ سے روشن ہے آسمان سخن

فاروقی اس افسانے میں دہلی سے نکل کر سر زمین اودھ کی سرحدوں میں داخل ہوجاتے ہیں ۔انھوںنے مصحفی کو بطور مرکزی کردار کے پیش کیا ہے۔ان کے حالات زندگی شعر گوئی ،شاعرانہ مزاج،زبان دانی، قادرالکلامی ،سیرت و شخصیت کے متعلق تحقیقی و تنقیدی اور علمی مباحث وہ اہم نکات ہیں جن کے ارد گرد افسانہ کا تانا بانا بنا گیا ہے۔مصحفیؔ تک پہنچنے کے لیے شمس الرحمن فاروقی نے لکھنؤ کی پوری تہذیب کا مرقع پیش کردیا ہے جہاں عیش و عشرت کا ماحول ہے ،جام و سرود کی محفلیں ہیں وہیں، اودھ علم و ادب کا عظیم گہوارہ بھی تھا۔جہاں ایک جانب لکھنؤ کے آسودہ ماحول کو دکھایا گیا ہے۔ دوسری طرف نادار غریب طبقے کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔خود بھورا بیگم کو ان کی ماں نے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے صرف ڈیڑھ سال کی عمر میں فروخت کردیاتھا جس کا ذکر افسانہ نگار نے اپنے افسانے میں کچھ یوں کیا ہے:

’’میں سوا ڈیڑھ سال کی تھی جب میری ماں نے مجھے جنت آرام گاہ مرزا منگلی مرحوم کی حویلی پر بیچ دیا،سنہ و سال مجھے یاد نہیں ،لیکن اس زمانے میں وہ بنارس میں ہی تھے نواب وزیر بننے میں دیر تھی بعد میں کسی نے مجھے بتایا کہ ہم لوگ غازی پور کے ہیں وہاں صاحب بہادرلوگوں نے نیل کی کاشت بڑے پیمانے پرشروع کی تو غلہ مہنگا ہوتے ہوتے قحط کی نوبت آگئی بہت سی مائوں نے اپنے بچے بیچ دیے کہ بچے کی جگہ اپنا پیٹ پال لیں اور بچے کو بھی ایک وقت پانی ملا دودھ میسر ہوجائے۔‘‘

(سوار اور دوسرے افسانے،ص:۲۰۱)

اس افسانے میں فاروقی کا بیانیہ جوہر اپنے کمال عروج پر ہے، بیان کی چستی و الفاظ کی بندش نے افسانے میں وہ سحر پیدا کیا ہے کہ بیانیہ کے ختم ہونے کے باوجود قاری بہت دیر تک اس سحر کے اثر سے باہر نکل نہیں پاتا ہے۔اس میں کل چار راوی ہیں وفا،بھورابیگم ،مصحفیؔاور خود مصنف۔ واقعات کے تسلسل میں ایک راوی کے بیانات میں دوسرے راوی کی مداخلت کا لحاظ رکھا گیا ہے۔خاص کر بھورا بیگم کی نجی زندگی کے بیانیہ میں وفا کی مداخلت کو بہت ملحوظ رکھا گیا ہے۔یہ فاروقی کے بیانیہ کی خوبی ہے۔

آفتاب زمیں میں راوی درباری مل وفاؔ کی اچانک موت افسانے کا نقطۂ عروج ہے۔یعنی ہر افسانہ ایک اکائی ہے۔زندگی کا ایک پہلو،ایک رخ کی تصویر کشی ہے جس کے تناظر میں شمس الرحمن فاروقی اپنے مقصدکے تحت ادبی تاریخ و تہذیب کو بیان کیا ہے۔ اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ فکشن کے بیانیہ کو افسانے کی صنف میں شامل کرنے کے بارے میں فاروقی کا فیصلہ درست ہے۔

’’لاہور کا ایک واقعہ ‘‘ اس مجموعے کا آخری افسانہ ہے،اس افسانے کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہ علامتی پیکر اختیار کیے ہوئے ہے۔ابتدا سے لے کر آخر تک معنی کی مختلف جہتیں پوشیدہ ہیں البتہ یہ افسانہ عہد اقبال کی تہذیب کی اور قوم کی شکستہ حالی کی بھر پور عکاسی کرتا ہے۔قوم کی اس دگر گوں حالت پر خود اقبال بھی نالاں تھے۔یہاں مشرقی اقدارکی علامت کے طور پر علامہ اقبال کو استعمال کیا گیا ہے ۔ان کا یہ افسانہ خواب و حقیقت کا امتزاج ہے جس میں علامتیں بھی ہیں ۔نوجوان لڑکوں کا اس طرح کی حرکات کرنا برائی میں پائی جانے والی کشش اور معاشرے میں پنپنے والی برائیوں کا کثرت سے ہونا ہے اور راوی کا پریشانی کے عالم میں دور بھاگنادر اصل خود کو برائیوں سے محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔افسانے میں بجلی کے کرنٹ کو بطور علامت پیش کیا گیا ہے۔بدقماش لونڈے منفی خصوصیات کے پھاٹک کے اس طرف اقبال کی فکر و نظریات ہیں اور پھاٹک کے اس طرف اقبال کے عالمانہ تصورات کے برعکس بگڑی ہوئی تہذیب ہے اور یہ دونوں ملتے ہیں تو کرنٹ محسوس ہوتا ہے۔افسانے کا راوی پھاٹک تو پھلانگ جاتا ہے مگر لڑکوں کی حالت ملاحظہ کیجیے:

’’ لیکن وہ پھاٹک کے کھمبے کے پاس آکر یوں رک گئے جیسے بجلی کا کرنٹ لگ گیا ہو۔‘‘

(سوار اور دوسرے افسانے،ص:۳۳۶)

فاروقی کے اب تک جتنے بھی افسانے تھے سب میں یہ خوبی رہی ہے کہ وہ کرداروں کو ان کی وضع قطع، رہن سہن، لباس، عادات و اطوار سمیت سامنے لاکھڑا کردیاہے۔ گویا ان کے جسم میں دوبارہ روح پھونک کر زندہ کر دیا ہولیکن اس افسانے میں اقبال کی صورت دھندلا گئی ہے۔

گویا شمس الرحمن فاروقی نے اردو افسانے کی دنیا میں غالب ،میر، مصحفی جیسی ادبی شخصیتوں سے متعلق سوانحی افسانے لکھ کر اپنی انفرادیت قائم کی ہے۔ان کی شاعری ان کے عہد کا شاعرانہ مزاج، زبان و بیان اور ادبی تہذیب کی عکاسی کرتے ہوئے افسانے کا ایسا تانا بانا بنا ہے کہ اس پر نہ صرف حقیقت کادھوکہ ہوتا ہے بلکہ ایسامعلوم ہوتا ہے کہ ان ادبی شخصیتوں اور ان کے عہد کو افسانہ نگار نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو۔ان کے افسانوں کے مطالعہ کے بعدیہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ افسانہ نگارنے اپنی تحقیقی قوت سے اپنے کرداروں کی عملی زندگی کی ایسی تصویر کشی کی ہے کہ ان کی منھ بولتی ،چلتی پھرتی تصویر ہماری آنکھوں کے سامنے آجاتی ہے۔ان افسانوں میں تکنیک کی جلوہ گری جگہ جگہ نظر آتی ہے۔ کرداروں کا راوی سے واحد متکلم میں تبدیل ہوجانا،واحد متکلم سے متکلم غیر حاضر میں ،اشعار کا استعمال، خواب اور خواب سے حقیقت میں چلے جاناوغیرہ ۔فنی طور پر یہی ان کی کہانیوں کا حسن ہے۔فاروقی نے اپنے افسانوں میں عہد حاضر کے اسلوب سے انحراف کرتے ہوئے اپنا رشتہ قدیم بیانیہ روایت سے جوڑا ہے اور افسانوں کی معنویت کے لحاظ سے مختلف طرز بیان اختیار کیا ہے۔

اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے افسانوں میں اٹھارہویں صدی اور انیسویں صدی کی اردو ادبی تہذیب اور ہندو مسلم تہذیب کو نہ صرف اجاگر کیا بلکہ ایک مثبت زاویہ نظر عطا کیا۔ان کے تمام افسانوں کو دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سارے ہندوستان اور پاکستان میں اس طرح کے افسانوں کی مثال نہیں ملتی جن میں تاریخ، ادب، سیاست اور شاعرانہ کردار کو بیک وقت اس درجہ خوبی کے ساتھ پیش کیا گیا ہو۔

......

اسسٹنٹ پروفیسر( سی پی ڈی یو ایم ٹی)

مولانا آزاد نیشنل اردو یونیور سٹی ،حیدرآباد -500032

موبائل : 8373984391


Wednesday, June 7, 2023

جدید افسانہ اور جدیدیت کی سیر

جدید افسانہ اور جدیدیت کی سیر

 ڈاکٹر عشرت ناہید 

اردو ادب کے مختلف میدانوں میں حیات اللہ انصاری کی خدمات کا جائزہ لینے پر بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ان میدانوں میںانہوں نے نہ صرف گراں قدر خدمات انجام دی ہیں بلکہ اپنی فہم و فراست، فنی و فکری بصیرت اور غیر معمولی تخلیقی صلاحیت اور قدرت بیان سے اردو کے افسانوی ادب میں قابل قدر اضافے کیے ہیں اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے علم و ادب کے دوسرے شعبوں میں بھی اپنے جوہر دکھائے ہیں۔ ان میں سے ایک تنقید بھی ہے۔ ویسے تو تنقید و تخلیق کے گہرے تعلق کے پیش نظر ہر تخلیق کار تنقید کے عمل سے بھی گزرتا ہے لیکن ایک انفرادی اور امتیازی نوعیت کے ادبی عمل کے طور پر حیات اللہ انصاری نے اردو شعر و ادب کے مختلف موضوعات پر اظہارِ خیال کرکے اپنی تنقیدی بصیرت کا ثبوت دیا ہے۔ ان کی تنقید نگاری کے ذیل میں ان کے بہت سے مضامین اور مقالے رکھے جا سکتے ہیں جو مختلف اوقات میں اخبارات و رسائل میں شائع ہوئے اور ادبی جلسوں میں پڑھے گئے لیکن اس سلسلے میںان کی تصنیف ’’جدیدیت کی سیر‘‘قابل ذکر ہے۔ چھ طویل تنقیدی مضامین پر مشتمل یہ کتاب ۱۹۸۷ء میں کتاب دان لکھنؤ سے شائع ہوئی۔ اس کے مضامین دو حصوں میں منقسم ہیں۔ حصۂ نثر اور حصۂ نظم۔ جدیدیت کی سیر میں شامل مضامین کے مطالعے سے حیات اللہ انصاری کی تنقیدی بصیرت کا پتہ چلتا ہے اور ناقدانہ صلاحیت اور ادبی نظریات کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس میں شامل مضامین میں سے بیشتر جدید ترین ادبی تخلیقات کو اپنے دائرۂ تنقید میں لیے ہوئے ہیں۔ حصۂ نثر میں پانچ مضامین بعنوان ’’افسانے میں دیو مالا‘‘، ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ از سریندر پرکاش صاحب، ’’ جمغورہ الفریم ‘‘ ازسریندر پرکاش، ’’کمپوزیشن دو‘‘از بلراج مینرا اور ’’`افسانوی ادب کا مرتبہ‘‘۔ حصۂ نظم ن۔م۔ راشد پر لکھا گیا ہے۔ جس میں ’’پہلی بات‘‘ ن۔م راشد کی شاعری اور ان کے شعری مجموعے ’’ماورا‘‘ کا جائزہ لیا گیا ہے۔ 

اس کتاب کے منظر عام پر آنے پر اس کی خاطر خواہ پذیرائی نہیں ہوئی اس کی ایک بڑی وجہ ادبی تنقید پر ترقی پسندانہ نظریات کی بالا دستی قرار دی جا سکتی ہے۔ حیات اللہ انصاری نے اپنے تنقیدی عمل کے بارے میں ’’جدیدیت کی سیر‘‘میں لکھا ہے:

آزادی کی جدوجہد کا میں ایک سپاہی رہ چکا ہوں اور دیکھ چکا ہوں کہ عدم تشدد کے نظریے نے کس طرح ایک عظیم الشان سامراج کو بے بس کرکے ختم کر دیا اور ہندوستان کو آزادی دلادی پھر امریکہ میں مارٹن لیوتھر کنگ سے میں ۱۹۶۰ء میں ملا۔ وہ کالوں کے حقوق حاصل کرنے کے لیے گاندھی جی کے عدم تشدد کے اصول پر لڑ رہے تھے اور کامیاب ہو رہے تھے۔ ان کی جنگ ان کی شہادت کے بعد بھی جاری رہی اور کامیاب ہوتی رہی۔ یہ سب ٹھیک ہے لیکن اب ہندوستان کو آزادی تو مل گئی ہے اور وہ دھیرے دھیرے ہر میدان میں آگے بھی بڑ ھ رہا ہے لیکن ابھی ان گنت مسائل حل ہونے کو باقی ہیں اور نئے مسائل برابر پیدا بھی ہو رہے ہیں۔ اگر کوئی نظریہ ایسا مل جائے جو ان سب کو نہیں تو آدھے یا چوتھائی مسائل کو ایک جست میں حل کر دے یا اس کا راستہ بتا دے یا کم سے کم ایسی سوجھ بوجھ دے دے کہ لوگ راستہ خود نکال لیں۔ توکیا کہنا! 

اس نقطۂ نظر سے میں جدیدیتی ادب پاروں کا مطالعہ کرنے لگالیکن وہ کسی طرح بھی سمجھ میں نہیں آتے تھے۔ مشکل یہ تھی کہ اس فن کے امام ان کی تشریح جس طرح کرتے تھے وہ اس کو اورالجھا دیتی تھی۔ میں حیرت زدہ تھا کہ مسائل کے حل کرنے والے نظریوں کو پیش کرنے کا یہ کون سا طریقہ ہے۔ 

ادیبوں سے میرے تعلقات کافی رہے ہیں میں ان سے الگ الگ بھی اور مجمعوں میں بھی درخواست کرتا رہاہوں کہ مہربانی کرکے آپ میں سے کوئی صاحب مجھے کوئی مستند جدیدیتی ادب پارہ سمجھادیں لیکن زیادہ تر تو یہ کہتے تھے کہ جب وہ خود نہیں سمجھے ہیں تو سمجھائیں گے کیا، لیکن ان میں جو جدیدیت کے حامی تھے وہ مجھے جھکائیاں دے کر نکل جاتے تھے۔ میں متحیر تھا کہ جو نظر یے ہم ایسے لوگوں کی سمجھ میں نہ آئیں وہ سماج کی دشواریوں کو کیوں کردور کر سکتے ہیں اور وہ ادب بھی کیا جو صرف گنے چنے لوگوں کی سمجھ میں آئے۔ (جدیدیت کی سیر ۔۷-۸)

جدید شہ پاروں کو سمجھنے کی غرض سے حیات اللہ انصاری چاہتے تھے کہ اس فن کے فن کار نمونے کے طور پر ہی سہی چند فن پاروں کی نشریح عام فہم انداز میں کریں تاکہ پڑھنے والوں کی سمجھ میں آجائیں اور وہ اس ادب سے براہ راست استفادہ کر سکیں ۔ان کا خیال تھا کہ تقریباً پچیس سال سے زائد مدت گزر جانے کے بعد بھی جدید ترین ادبی تخلیقات قاری کے لیے معمہ بنی ہوئی ہیں اور ان میں جو نادر خیالات پیش کیے گئے ہیں ان کے پڑھنے والے سماج کو ابھی تک کسی نہج سے بھی کوئی فائدہ حاصل نہیں ہو سکا ہے۔ ان فن پاروں سے ہمارے ذہن و فکر میں اجالے ہو سکتے اور ہم اپنے کردار اور سماج کو نکھار و سنوار سکتے یا اس کی جدوجہد تو کر ہی سکتے ہیں ۔ نصف صدی کا عرصہ کسی تحریک کو اعتبار عطا کرنے کے لیے کم نہیں ہوتا ہے۔ جدید ادب کی اشاعت کا یہ خلاصہ یقیناً ہر لحاظ سے قابل توجہ ضرور ہے۔ غرض یہ کہ ان غور طلب و جوہات کی بنا پر حیات اللہ انصاری نے جدید ادب کے فن پاروں میں سے چند کو اپنے طور پر غور و فکر کرنے کے لیے منتخب کیا اور ادب فہمی کے اصولوں کے مطابق ان پر اظہارِ خیال کیا ہے۔ افسانوی ادب میں راجندر سنگھ بیدی کے افسانہ ’’گرہن‘‘ میں جنسیات پر زور دینے کی بنا پر اس خیال کا اظہار کیا جا رہا تھا کہ اس میں دیو مالا کھپائی گئی ہے۔ جدید افسانوں میں دیو مالا کا کھپانا خود محل نظر تھا مگر حیات اللہ انصاری اس افسانے پر اظہارِ خیال سے پہلے یہ اعتراف کرتے ہیں :

’’بحث سے پہلے یہ بتادینا ضروری ہے کہ میں بیدی کو بہت پسند کرتا ہوں اور ان کے بعض افسانوں کو اردو میں شاہکار کا درجہ دیتا ہوں۔ بیدی صاحب میں فکر بھی ہے، استدلال اور توازن بھی۔‘‘ (جدیدیت کی سیر ،ص: ۱۵)

گرہن کی کہانی یہ ہے کہ ہولی اپنی ساس اور شوہر سے پریشان رہتی ہے اور چاند گرہن دیکھ کر اس کے من میں اپنے میکے جانے کی خواہش اتنی شدید ہو اٹھی کہ وہ اپنے چار بچوں اور گھر بار کو چھوڑ کر حاملہ ہونے کی حالت میں گھر سے فرار ہوجاتی ہے۔ وہ جس لانچ میں میکہ جانے کے لیے بیٹھتی ہے اس کا ٹکٹ لینے کو بھی اس کے پاس پیسے نہیں تھے۔ اس کی اس حالت کا فائدہ اٹھا کر ایک بد معاش اس کو اپنے ساتھ سرائے میں لے جاتا ہے اور اس کی عزت لوٹ لیٹا ہے یعنی اس زمین کے چاند میں بھی گرہن لگ جاتا ہے۔ 

اس کہانی کا تنقیدی تجزیہ کرتے ہوئے حیات اللہ انصاری نے بڑے استدلال کے ساتھ یہ بتایا ہے کہ وہ اس افسانہ میں کسی بھی طرح زمین کے چاند ہولی کو مظلوم یا بے بس نہیں پاتے ہیں، نہ ساس کے مظالم بہت زیادہ اہمیت کے حامل ہیں اور نہ شوہر کا سلوک اس امر کو ثابت کرتا ہے کہ ہولی پر ظلم روا رکھا جاتا تھا ۔اس کا گھر افسانے کے مطابق عام کائستھوں کے گھر کی طرح روایتی تھا اور عام شکر رنجیاں اس خاندان کے افراد میں بھی رائج یا عام تھیں۔ افسانے کا تجزیہ کرتے ہوئے آسمان کے چاند کو جس طرح راہو، کیتو پریشان کرتے دکھائی دیتے ہیں اس طرح زمین کے اس چاند ہولی کو نہ تو اس کا شوہر اور نہ ساس ہی راہو کیتو کی طرح پریشان کرتی نظر آتی ہے اور حالات تو اتنے صاف بتائے گئے ہیں کہ اپنے بچوں اور گھر والوں کے لیے ہولی خود ایک عذاب ثابت ہوتی ہے ۔وہ افسانے میں دیو مالا کھپانے کی کوشش کو اپنے دلائل کے ساتھ نا کام ثابت کرتے ہوئے ہولی کے فعل کو حماقت قرار دیتے ہیں۔ وہ آسمان کے چاند کی خوبی خوبصورتی کے علاوہ پاکیزگی کو قرار دے کر ہولی کے کردار کو سفلی اور حماقت پر مبنی بتاتے ہیں اور کسی بھی طرح کی ہمدردی کی مستحق اس کو نہیں مانتے ہیں اس لیے گرہن کا اطلاق اس پر کرنا زیادتی ٹھہراتے ہیں۔

حیات اللہ انصاری کے نزدیک جدیدیت پسندوں کی نامانوس علامتیں بھی کبھی ادب کا حصہ بننے والی نہیں ہیں۔ ان علامتوں کو پڑھنے والوں کی سمجھ سے بالا تر بنا کر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے مفہوم تک جب قاری کی رسائی آسان نہ ہو تو پھر نتیجہ اخذ کرنا تو مزید دشوار تر ہی ہو جاتا ہے:

اگر اپنا کہا آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے

مزہ کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھے

دوسرا افسانہ سریندر پرکاش کا’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ ہے۔ سریندر پرکاش کا شمار جدید ادب کے تخلیق کاروں کی صف اول میں کیا جاتا ہے اور ان کا یہ افسانہ جدیدیت پسند حلقے میں کافی مشہور بھی رہا ہے۔ افسانے کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی کی کشمکش سے اکتا یا ہوا ایک شخص جو کہ افسانے کا ہیرو ہے سکون اور عرفان ذات کی تلاش میں ایک مکان میں داخل ہو جاتا ہے اور اس مکان کے ڈرائنگ روم میں آکر وہاں رکھے ہوئے گلدان کو چھو کر دیکھتا ہے۔ وہاں موجود آتشدان سے وہ اپنی ذات کے بجھے اور گزرے زمانے کی یاد تازہ کرنے لگتا ہے۔ اس کا ہاتھ ایک تصویر سے ٹکراتا ہے جس سے وہ گر جاتی ہے۔ وہ اس کو دیکھتا ہے۔ اس میں ایک مرد ایک عورت اور ایک بچی مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسے یاد آتا ہے کہ کبھی اس نے یہ تصویر کھنچوائی تھی۔ اس کے ذہن میں جنسی جذبہ بھی ابھرتا ہے اور اس کی علامت کے طور پر ایک سانپ کا نکل کر بیڈ روم میں داخل ہونا ہے۔ وہاں عورت انگڑائی لیتی دکھائی دیتی ہے اور بچی کھیلتی نظر آتی ہے۔ بر آمدے میں ایک اندھے شخص کی لاٹھی لے کر چلنے کی آواز سنائی دیتی ہے وہ اس آواز کو سن کر اسے روکنے کی کوشش کرتا ہے مگر لاٹھی ٹیکنے کی آواز دور ہوتی جاتی ہے اور موڑ پر غائب ہو جاتی ہے۔ بار بار وہ آواز آتی ہے اور دور ہو جاتی ہے۔ اس لاٹھی والے شخص کو ہیرو نہ تو پوری طرح دیکھ پاتا ہے اور نہ ہی اس سے ملنے کی شدید خواہش کبھی پوری ہوتی ہے۔ عرفان ذات کی محرومی اس کا غم بن کر ابھرتی ہے۔ کمرے میں کانسے کا مجسمہ بھی ہے جِسے گزرے ہوئے زمانے کی علامت کے طور پر دکھایا گیا ہے مگر اس میں روح ختم ہو چکی ہے۔ ہیرو زندگی سے ملاقات چاہتا ہے۔ ڈرائنگ روم میں یہ خیال بھی ابھرتا ہے کہ یہ سب کچھ تمہارا ہی تو ہے مگر اب دیر ہو چکی ہے۔ یہاں پہنچ کر ہیرو سوچتا ہے کہ میں اپنے عہد کو، اس کی پرانی یادوں کو صرف دیکھ سکتا ہوں اس میں ہونے والی تبدیلیوں کو روک نہیں سکتا۔ اپنی بے بسی پر ماتم کرتے ہوئے وہ کہتا ہے اگر کوئی بے سہارا کشتی ایسے ماحول میں نظر آجائے تو سمجھنا وہ میں ہوں۔ 

سریندر پرکاش کے شارح لتا داس افسانے میں آتشدان کی آگ بجھ جانے کو پرانی قدروں کے زوال سے نکالتے ہیں اور صنعتی کلچر کے بے جان ہونے کا اشارہ دیتے ہیں جب کہ افسانہ میں ایسی علامت واضح نہیں ہے کہ جنہیں صنعتی کلچر کی بے وزنی سمجھا جا سکے، نہ کسی تہذیبی ٹکرائو کا کوئی حوالہ یا ذکر ہے پھر جو کلچر ڈرائنگ روم میں پیش ہوا ہے وہ تو نئے دور کا ہے بھی نہیں۔ یہاں آتشدان ہے، بارہ سنگھے کا سر لٹکا ہوا ہے اور تیر کمان ٹنگے ہوئے ہیں، کانسے کا مجسمہ ہے یہ سب فارغ البالی کے قدیم کلچر کی نمائندہ اشیا ہیں۔ 

حیات اللہ انصاری اس افسانے پر اظہارِ رائے کرتے ہوئے اپنی تنقید کا آغاز گوپی چند نارنگ کی اس تحریر کے حوالے سے کرتے ہیں جو ڈاکٹر نارنگ نے اپنی کتاب ’’اردو افسانہ روایات و مسائل‘‘ میں شامل مضمون ’’اردو میں علامتی اور تجریدی افسانہ و بلراج مینرا اور سریندر پرکاش‘‘ میں کی ہے۔

’’سریندر پرکاش کے افسانوں میں داستان کی سی واقعیت ہے اور قصے کی سی کشش ہے لیکن جو لوگ رسمی معنی میں ابلاغ کا ماتم کرتے رہتے ہیں ان کے بارے میں سوائے اس کے اور کیا کہا جا سکتا ہے انھیں اپنی تخلیقی نارسائی اور کم فہمی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔‘‘ 

اس اقتباس کے متعلق حیات اللہ انصاری لکھتے ہیں:

’’آخر والے معصوم جملے کو اگر کھری زبان میں کہا جائے تو یوں ہوگا `اپنی کم فہمی پر ماتم کرنا چاہیے‘‘۔

وہ آگے لکھتے ہیں:

’’میرا شمار پچیس برس تک ان ہی لوگوں میں رہا ہے جن کو اپنی کم فہمیوں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے تھا اور سچی بات تو یہ ہے کہ میں واقعی اپنی فہم پر ماتم کرتا رہا کیوں کہ میں جدیدیت کا ایک بھی شاہکار سمجھ نہیں پایا۔(جدیدیت کی سیر ،ص: ۶۵)‘‘ 

افسانے کا تجزیہ کرتے ہوئے حیات اللہ انصاری نے گو پی چند نارنگ کے مضمون پر زیادہ خیال آرائی کی ہے نفس مضمون پر توجہ کم دی ہے وہ لکھتے ہیں:

’’جدیدیت کے امام جدیدیت کے اصول یہ بیان کرتے ہیں کہ اس میں مصنف خود کو تمام نظریوں سے پاک کرکے اپنے اندر ڈوب کر اپنی ذات کا مشاہدہ و مطالعہ کرتا ہے اور اپنا خود تجزیہ کرتا ہے اور اس مشاہدے، اور مطالعے اور تجزیے سے جو عرفان میسر آتا ہے اس کو انہی الفاظ میں پیش کرتا ہے جن میں وہ ابھرتے ہیں۔

اس افسانے کے مصنف سریندر پرکاش صاحب نے یہ سب کام اس ا فسانے میں بہت خوبی سے انجام دیے ہیں۔ (جدیدت کی سیر،ص:۷۴)

افسانے میں ابہام کی بہتات پر روشنی ڈالتے ہوئے کہتے ہیں:

’’اب یہ کمال ہے سریندر پرکاش صاحب کا کہ انہوں نے ابہام کے آرٹ کو اس خوبصورتی سے استعمال کیا کہ ایک سادی سی چیز جدیدیت کا شاہکار بن گئی۔‘‘(جدیدت کی سیر،ص: ۸۱) 

حیات اللہ انصاری نے افسانے اور گوپی چند نارنگ کی تنقید سے نتیجہ نکالا ہے کہ ہیرو ڈرائنگ روم میں نہیں ہے بلکہ ڈرائنگ روم اس کے اندر ہے۔ جدیدیت کے اماموں کے اصولوں کے مطابق وہ اپنے من میں ڈوب کرسراغ زندگی پانے کی کوشش اس طرح کرتا ہے کہ اس کے تصور میں سجا ہوا ڈرائنگ روم ابھرتا ہے۔ اس کی تمام سجاوٹ کی اشیا ہیرو کو اس کا ماضی یاد دلا دیتی ہیں۔ وہ یہاں مسرور حالت میں آتا ہے اور اندھے کی لاٹھی ٹیکنے کی آواز سے غمزدہ ہو جاتا ہے۔ زندگی کا بحر بے کنار اور غم و الم کا شکار ہیرو عرفان ذات سے محروم ہوکر اپنے آپ کو بے بس و بے سہارا کشتی سمجھ کر کہنے لگتا ہے کہ اگر ایسی بے سہارا کشتی ساحل تک آجائے تو سمجھنا یہ میں ہوں۔ ہیرو مایوسی کا مظاہرہ کرتا دکھائی دیتا ہے اس پر حیات اللہ انصاری لکھتے ہیں :

’’سریندر پرکاش کا کمال یہ ہےکہ اس نے زبان سے ایک بار بھی نہیں کہا لیکن پڑھنے والے کو ڈنکے کی چوٹ سمجھا دیا کہ جدیدیت میں عرفان کا مشورہ دیا جاتا ہے وہ سراب ہے۔‘‘ 

آخر میں وہ اس حقیقت کو بھی بے نقاب کر دیتے ہیں:

’’میں نے سریندر پرکاش اور مینرا صاحبان کو رجسٹری سے خطوط بھیجے تھے کہ آپ کے فلاں فلاں افسانوں کے بارے میں نے ایسا ایسا لکھا ہے۔ اگر میرے مضمون کے پہلو بہ پہلو آپ کے افسانے بھی شائع ہو جائیں تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ اس لیے براہ کرم ان کی اشاعت کی اجازت مرحمت فرمائیے، لیکن مجھے اپنے خطوں کا کوئی جواب نہیں ملا۔‘‘ (جدیدیت کی سیر،ص:۹۰)

جدیدیت کے سلسلے میں حیات اللہ انصاری نے اپنے تنقیدی مضامین میں جن افسانوں پر تبصرے یا اظہارِ خیال کیا ہے ان میں مدلل پیرائے میں افسانوں کے ساتھ ان کے شارح گوپی چند نارنگ پر بھی کھل کر تنقید کی ہے۔ سریندر پرکاش کے ایک اور افسانہ ’’جمغورہ الفریم‘‘ پر وہ عبرانی لاطینی عہد اور ماضی سے نکل کر حال تک کے ادوار کا تجزیہ کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ جدیدیت کی رو میں کس طرح بات کو الجھا کر معنی کو ناقابل فہم بنایا گیا ہے۔ قلقار مس کہانی کے ایک کردار نو تیج دوسرے کردار حامد مرزا اور پر بل کمار کے ذریعہ علامتوں اور استعاروں کا طول طویل سفر پورا کرایا گیا ہے۔ اس سفر سے حاصل صرف یہ ہونا بتایا گیا ہے کہ نئی نسل جدیدیت کے ماضی، حال اور اس کے ساتھ ساتھ مستقبل سے بھی مایوس نظر آتی ہے یعنی اس ادب پارے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہو پاتا ہے۔

بلراج مینرا کا افسانہ ’’کمپوزیشن دو‘‘پر حیات اللہ انصاری نے تنقید کرنے کا سبب اپنی نا فہمی کو قرار دیا ہے اور گوپی چند نارنگ کے تبصرے کو اپنے خیالات کے اظہار کی تحریک کا سبب قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’میں بلراج مینرا کو زبر دست جدیدیتی سمجھتا ہوں کیونکہ پڑھو تو افسانے کچھ دلچسپ معلوم ہوتے ہیں اور ایسا بھی لگتا ہے جیسے مصنف صاحب کوئی گہری بات کہنا چاہتے ہیں لیکن چاہے جتنی بھی بار پڑھ جائو پلے کچھ نہیں پڑتا۔ میں نے سوچا کہ لائو `کمپوزیشن دو'کو جس میں کہ جدیدیتی خصوصیات بڑی گہری ہیں پہلے لے لوں۔‘‘(جدیدیت کی سیر،ص: ۱۰۸)

افسانے میں موت کے فرشتے اور ایک ایسے شخص کی کہانی فنی تکنیک سے بیان کی گئی ہے موت کا فرشتہ کہتا ہے: 

’’میرا کام ہی ایسا ہے۔ بھری برسات میں، جھلستی گرمی میں، ٹھٹھرتی سردی میں اور کھلتے اٹھکھیلیاں کرتے موسم میں، وادیوں میں، ویرانوں میں، جنگ کے میدانوں میں، اسپتالوں میں، سونے چاندی کے گھروں میں، گھاس پھوس کے جھونپڑوں میں، صبح و شام، ہر گھڑی، چند لمحوں کی عمر کے بچوں کو، سترہ سال کی محو خواب لڑکی کو، پچیس سال کے کڑیل جوان کو، اسّی سال کے بڈّھے کھوسٹ کو، شرافت کے مجسمے کو، کمینگی کے پتلے کو بھولے بھالے کو، چالاک کو میں موت کا فرشتہ ہوں۔میں ہر کسی کے پاس جاتا ہوں اور اسے لے آتا ہوں آپ مجھے جانتے ہیں پہچانتے نہیں۔‘‘

اور انسان کے متعلق افسانے میں بتاتے ہیں کہ اس کی کائنات محض ایک کمرہ ہے جس کی ہر چیز سیاہ ہے اس سیاہی سے جو معنی اخذ کیے جا سکتے ہیں وہ لا علمی، جہالت، مایوسی وغیرہ ہی ہو سکتے ہیں۔ وہ انسان جِسے حیات اللہ انصاری جدیدیت کا نمائندہ کہہ کر اس کی تحریروں کو رائے عامہ کے سامنے پیش ہونے پر مسترد کردینے تک دلچسپ دلائل کے ساتھ قلم بند کر دیتے ہیں وہ دو ٹوک الفاظ میں لکھتے ہیں:

’’کہانی بھر پور استدلال اور جذباتی طاقت سے یہ ثابت کرتی ہے کہ جدیدیت کے دارو مدار علوم پر جو نظریوں سے مرکب ہوتے، قطعی نہیں ہوتا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ جدیدیتی شاہکار مصنف کی ایسی ذاتی نظر سے تعمیر ہوتے ہیں جو سراسر غیر علمیت پر مبنی ہوتی ہے۔ عوام ایسے ایسے شاہکاروں کی نا معقولیت کو پکڑ لیتے ہیں اور پھر ایسے شاہکار کو قتل کر دیتے ہیں یعنی یکسر مسترد کر دیتے ہیں‘‘ 

(جدیدیت کی سیر،ص: ۱۲۵)

ایک اور تنقیدی مضمون ’’افسانوی ادب کا مرتبہ‘‘ میں انہوں نے نظم اور نثر دونوں پر تبصرہ کیا ہے۔ نظم کی اولیت اور مقبولیت دونوں مسلمہ چیزیں ہیں مگر ہر عہد میں انسانی افکارو خیالات کی ترقی کے ساتھ اس عہد کے تقاضوں کے مطابق اصنافِ ادب میں خوشنما اور ضروری نوعیت کی تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں۔ جدید عہد کی ضرورتوں کے لحاظ سے افسانے، ناول اور دیگر منطقی علوم بھی اپنے لیے اظہار کے اسلوب نثر کی طرف مائل ہو کر آگے بڑھتے گئے ہیں اور ہر لحاظ سے اس کی اپنی انفرادی اہمیت بر قرار رہی ہے۔ شاعری کو نثر پر ترجیح دینے کی دھن میں وہ حیدر آباد کی ایک عدالت کا حوالہ دے کر بتاتے ہیں کہ جج موصوف نے ایک مقدمے کا فیصلہ نظم میں سنایا، اس کی بڑی تعریف و توصیف ہوئی، یہاں تک کہ نواب حیدر آباد نے بھی جج صاحب کی تعریف کی مگر وہ مقدمہ اگلی عدالت ہائی کو رٹ میں لے جایا گیا تو فاضل جج نے اس فیصلے کو نظم ہونے کی وجہ سے الفاظ کی کمزوری قرار دے کر ردّ کر دیا۔ چند اشعار جو مقدمے کے فیصلے میں شامل تھے ان میں سے ایک تھا۔

رام تھا جو سنار کا لڑکا

اتفاقاً کہیں سے آتا تھا۔

اس پر مخالف وکیل نے اپیل میں کہا تھا کہ رام ایک منصوبے کے تحت ایک مقام سے دوسرے مقام تک گیا تھا اتفاقاً نہیں آیا تھایہ حقیقت بھی تھی۔ موافق وکیل نے کہا یہ لفظ ضرورت شعری کے سبب آیا ہے مگر فاضل کورٹ نے اس کو کمزوری قرار دیا اور کہا یہ بات سچ اور صاف لکھنا تھی جب شاعری میں فیصلہ دیا ہے تو اس کا انجام بھی بھگتنا ہی ہوگا، یعنی نثر کی جگہ نظم کا استعمال درست نہیں ہے۔نظم جذبات کو گرما سکتی ہے لیکن حقیقت کا اصل خدوخال نثر کے ذریعہ ہی واضح ہوتا ہے۔ حقیقت کی پردہ پوشی بہر حال مناسب یا معقول بات نہیں ہے۔ آخر میں وہ بحث ختم کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

’’واقعہ تو یہ ہے کہ نہ تو نظم ناول اور افسانہ کی جگہ لے سکتی ہے اور نہ ناول اور افسانہ نظم کی جگہ۔ زندگی کے جانے کتنے گوشے ہیں جن میں سے بعض ایک میں ادا کیے جا سکتے ہیں تو بعض صرف دوسرے میں‘‘۔ (جدیدیت کی سیر،ص: ۱۳۲)

حالانکہ ان کے تنقیدی مضامین پر خیال آرائیاں تو ہوتی رہیں اور مخالفت کے شدید حملے بھی ان کی ذات اور تحریرات پر ہوتے رہے مگر ان کو پڑھ کر اسی نتیجے پر میں پہنچی ہوں کہ ان میں دلائل اور تحمل کی کمی رہی ہے۔ سطحی اعتراضات کا جواب دینے میں حیات اللہ انصاری نے اغماض بھی برتا ہے یہ ان کے اچھے نقاد ہونے کی واضح دلیل قرار دی جا سکتی ہے۔ پروفیسر آل احمد سرور نے نقاد کی تعریف کرتے ہوئے لکھا ہے:

’’ بڑا نقاد وہ نہیں ہوتا جس کی رائے ہمیشہ صحیح مانی جائے، بڑا نقاد وہ ہوتا ہے جس کی رائے سے دوسروں کو کسی موضوع پر بہتر اور جامع رائے قائم کرنے کی توفیق ہو۔ اس جامع رائے کا سراغ اس نقاد کی رائے سے ملا ہو۔‘‘ 

پروفیسر آل احمد سرور کی درج بالا رائے کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ حیات اللہ انصاری نے اپنے تنقیدی مضامین میں تنقیدی نظریات کو بھی نہایت واضح اور معر وضی طور پر زیر بحث لانے کی سعی کی ہے اور اس میں وہ بڑی حد تک اپنا نقطۂ نظر واضح کرنے میں کامیاب بھی رہے ہیں۔

rrr


504/122، ٹیگور مارگ، نزد شباب مارکیٹ

 ڈالی گنج،لکھنؤ-226020

موبائل: 9598987727


اردو صحافت کا سرفروشانہ کردار

اردو صحافت کا سرفروشانہ کردار ڈاکٹر سمیع احمد اردو ایک زندہ اور متحرک زبان ہے ،اس نے ہمیشہ ملک کی تعمیر وترقی میں ایک متحرک کردار اداکیا۔ملک...